مختلف صوبوں سے آنے والے خاندانوں نے کابل میں ہجرت کی ہے، لیکن انہیں شہر میں پانی کی شدید کمی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کابل میں پانی کے بحران کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔
افغانستان کے مختلف علاقوں سے خاندان خشک سالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث کابل منتقل ہوئے ہیں، جہاں انہیں دارالحکومت میں اہم پانی اور روزگار کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان میں سے بہت سے خاندانوں نے کابل میں بہتر حالات کی امید کی تھی، لیکن اب وہ انہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
لوگر صوبے سے ہجرت کرنے والے ابراہیم نے شہر میں پانی کے مسائل کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا: “ہم خشک سالی کی وجہ سے کابل آئے تھے، لیکن یہاں بھی ہمیں پانی کی کمی کا سامنا ہے۔” غزنی صوبے کے ایک اور مہاجر علی نے کہا، “خشک سالی نے ہمیں اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا، اور اب ہم کابل میں بھی اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔”
کابل کی رہائشی سمیرا کا کہنا ہے کہ “پانی تک رسائی پچھلے سالوں کی نسبت زیادہ مشکل ہو گئی ہے، اور خاندان اب اپنے بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔” ماحولیاتی ماہرین کابل میں پانی کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھنے کی وارننگ دے رہے ہیں۔
ماحولیاتی ماہر احمد جاوید نور کا کہنا ہے، “کابل اس آبادی کو سہارا دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔” ان مسائل کے ساتھ، بین الاقوامی کمیٹی برائے سرخ صلیب نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 33 ملین افراد پانی کی کمی کا شکار ہیں۔
یونیسیف نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ افغانستان میں صرف دو لوگوں کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل ہے، اور کابل میں صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مرسی کور کے مطابق قریب 80 فیصد کابل کا زیر زمین پانی آلودہ ہے، جو رہائشیوں کے لئے شدید صحت کے خطرات پیدا کر رہا ہے۔