سال 2026 کی پہلی ششماہی میں، افغانستان ازبکستان کا تیسرا سب سے بڑا برآمدی منزل بن گیا ہے، جس نے 961.5 ملین ڈالر کی مالیت کی اشیاء درآمد کی ہیں۔ یہ مقام روس اور چین کے بعد ہے، جو پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔
افغانستان نے 2026 کی پہلی ششماہی میں ازبکستان کے لئے تیسرے سب سے بڑے برآمدی مارکیٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جس نے مجموعی طور پر 961.5 ملین ڈالر کی درآمدات کی ہیں۔ یہ افغانستان کو قازقستان، فرانس اور ترکی سے آگے رکھتے ہوئے ازبکستان کے لئے ایک اہم تجارتی ساتھی کی حیثیت سے قائم کرتا ہے۔
ازبکستان کے قومی شماریات کے ادارے کے مطابق، اس ملک کی افغانستان کو برآمدات پہلی ششماہی میں 961.5 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں نمایاں ترقی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے نتیجے میں افغانستان روس اور چین کے بعد ازبک برآمدات کا تیسرا بڑا موصول کنندہ بن گیا ہے۔
فی الحال، روس اس فہرست میں 2.4 بلین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ چین 1.4 بلین ڈالر کے ساتھ ازبکستان کی برآمدی مارکیٹ میں دوسرے نمبر پر ہے۔ تاہم، افغانستان سے درآمدات میں نمایاں اضافہ تجارتی تعلقات میں تبدیلیوں کی واضح وضاحت کرتا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ رجحان جاری رہے گا۔
درآمدات میں اضافہ افغانستان کی اقتصادی ترقی کو فروغ دے سکتا ہے اور افغان تاجروں کے لئے نئے کاروباری مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ قازقستان اور ترکی جیسے مضبوط حریفوں کے پیش نظر، افغانستان کو ازبکستان کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو ترقی دینے اور مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔