حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : سه‌شنبه, 13 جولای , 2021 خبر کا مختصر لنک :

شمالی افغانستان میں طالبان کے خلاف استعمال کے لئے جنگی سامان میں کمی پر تنقید

شمالی افغانستان میں عوامی مقاومت نے طالبان سے لڑنے کے لئے فوجی سازو سامان کی کمی پر تنقید کی ہے۔


نام نہاد عوامی مقاومتی افواج نے طالبان سے لڑنے کے لئے خاطر خواہ فوجی سازوسامان فراہم نہ ہونے پر افغانستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ سہولیات فراہم کی جائیں۔

ان افواج نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے بارہا افغانستانی سرکاری عہدیداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیں اسلحہ اور سازوسامان بھیجیں، لیکن انہیں افغانستانی حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

قومی اعلیٰ مفاہمتی کونسل کے نائب سربراہ بابر فرہمند نے کہا: سابق مشیر صدرافغانستان، عبدالرشید دوستم بھی طالبان سے اس وقت لڑ رہے ہیں، لیکن ہماری درخواست کے باوجود ان کے لئے ابھی تک کوئی جنگی سامان نہیں بھیجا گیا ہے۔

انہوں نے جنگی سازو سامان کی غیر فراہمی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ہم بارہا اعلی سیکیورٹی عہدیداروں، وزیر دفاع، قومی سلامتی کونسل، اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ سے رابطہ کر چکے ہیں ، لیکن انہوں نے عوامی مقاومت پر توجہ نہ دی، اور ہمیں سامان مہیا نہیں کیا۔

جمعیت اسلامی کے میڈیا مشیر کا کہنا تھا: اگر افواج تک مزید مدد فراہم کی گئی تو نتیجہ کچھ بہتر ہوگا اور دشمن کامیاب نہیں ہو پائے گا۔

فوج کے مسائل سے آگاہ ایک خبر ذریعے نے کہا: اگرچہ ہمارے پاس پولیس، سیکیورٹی، اور قومی دفاعی دستے موجود ہیں لیکن مشکل انتظامیہ میں ہے۔

سیکیورٹی اور دفاعی دستوں کے ترجمان نے عوامی مقاومت کے لئے فوجی سازوسامان کی کمی پر تنقید کے جواب میں کہا: ہم غیر تربیت یافتہ لوگوں کو اسلحہ نہیں بھیجیں گے، فوجی تربیت کے بغیر یہ سامان کسی کو فراہم نہیں کیا جائے گا۔

اس وقت صوبائی دارالحکومت کو چھوڑ کر، بدخشاں کے تمام شہر اب طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک ہزار سے زائد افغانستانی سرکاری افواج تاجکستان کی سرحد کی جانب سے فرار کرگئی ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں