حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 31 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

پاکستان کے فوجی حملے: افغانستان میں بڑھتا ہوا تناؤ اور بین الاقوامی رد عمل

افغانستان کی سرحدی صوبوں میں پاکستان کے حالیہ فوجی حملوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی، وزیر محسن بشتی، یورپی یونین، اور یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان بڑھتے ہوئے تناؤ کی مذمت کی ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسلام آباد کا مقصد کابل کی خارجہ پالیسی پر دباؤ ڈالنا ہے۔


افغان حکام کی سیاسی رد عمل

پاکستان کے حالیہ فضائی حملوں نے افغان سرزمین کے مختلف حصوں میں زبردست داخلی رد عمل پیدا کیا ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان عوام اور سرزمین کے خلاف اپنی جارحیت بند کرے اور اپنی پالیسیوں کا دوبارہ جائزہ لے۔ انہوں نے زور دیا کہ باہمی احترام اور مہذب تعلقات کی پاسداری ہی علاقے کی استحکام کی جانب واحد راستہ ہیں۔

محسن بشتی: پاکستانی فوج کو دہشت گرد قرار

پشتون تحفظ تحریک کے رہنما محسن بشتی نے حملوں کے جواب میں بیان دیا کہ پاکستانی فوجی حکومت نام نہاد دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے نام پر دونوں جانب دہشت گردانہ کارروائیاں کرتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ پکتیکا صوبے میں ہونے والے حملے کا ذکر کیا، جس میں کئی مقامی کرکٹ کھلاڑی ہلاک ہوئے، اور اسے ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال قرار دیا۔ بشتی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس کھلی ناانصافی کے خلاف خاموش نہ رہیں۔

بین الاقوامی رد عمل: برسلز سے واشنگٹن تک

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کجیا کالاس نے دونوں فریقین کو تناؤ میں اضافے سے باز رہنے اور جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، “میں جانتا ہوں کہ پاکستان نے افغانستان پر حملہ کیا ہے۔ اس مسئلے کا حل میرے لیے سب سے آسان ہے، حالانکہ میں فی الحال امریکہ کی قیادت کی ذمہ داری اٹھاتا ہوں۔”

پاکستان کا نیا موقف

پاکستان کے آرمی چیف جنرل آصف منیر نے حال ہی میں بھارت پر دہشت گردی کے مسئلے کا سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اسلامی امارت افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی گروہوں کو روکیں جو اپنے علاقے سے پاکستان کے خلاف حملے کرتی ہیں۔

تناؤ میں اضافہ اور سرحدی جھڑپیں

افغان فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور پکتیکا صوبے پر بمباری کے بعد تناؤ بڑھ گیا۔ ان کارروائیوں کے جواب میں اسلامی امارت افغانستان کی وزارت دفاع نے سرحدی علاقوں میں جوابی کارروائیاں کیں، جو مقامی ذرائع کے مطابق کئی پاکستانی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

عوامی اور میڈیا کے رد عمل

افغان میں نسلی، مذہبی، اور سیاسی رہنماؤں نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا، جسے قومی خودمختاری کی خلاف ورزی اور غیر ملکی مداخلت قرار دیا گیا۔ عوامی سطح پر، غیر ملکی اثر و رسوخ اور مغرب کی خوشنودی کے خلاف نعرے بام عروج پر ہیں، اور مقامی ٹی وی نیٹ ورکس نے افغان عوام کی غیر ملکی جارحیت کے خلاف مزاحمت کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے ہیں۔

مزاحمت کا سیاسی پیغام

سرکاری تقاریر میں افغان حکام عوامی مزاحمت کی حیثیت کو سیاسی آزادی کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ بیانیہ مغربی طاقتوں پر انحصار سے بچنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے، اور نئی نسل کو یہ پیغام دیتا ہے کہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کو آزادی اور قومی وقار کی بنیاد پر مرتب کیا جانا چاہیے۔

حتمی تجزیہ؛ کابل پر اسلام آباد کا سیاسی دباؤ

تجزیاتی ذرائع کا خیال ہے کہ پاکستان کی حالیہ جارحیت کا مقصد نئے کابل حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کی حیثیت میں تبدیلی کرے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسلام آباد تناؤ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ افغانستان کی مشرقی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا جا سکے اور کابل کی خارجہ پالیسی کو اپنے مفادات کے مطابق رکھنے کی کوشش کی جائے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں