حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : سه‌شنبه, 21 اکتبر , 2025 خبر کا مختصر لنک :

پاکستانی فوج کے حملے پر عالمی مذمت: افغانستان کی سرحدی صورتحال میں کشیدگی

پاکستانی فوج کے حالیہ حملے نے افغانستان کے سرحدی صوبوں پر داخلی اور بین الاقوامی مذمت کی لہریں پیدا کی ہیں۔ حامد کرزئی، منظور پشتین، یورپی یونین اور حتی کہ ٹرمپ نے بھی تناؤ میں اضافے پر ردعمل ظاہر کیا ہے؛ جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا ہدف کابل کی خارجہ پالیسی پر دباؤ ڈالنا ہے...


افغان سیاستدانوں کے حالیہ حملوں پر ردعمل

پاکستانی فوج کے حالیہ فضائی حملے نے افغان سرزمین کے کچھ حصوں میں شدید داخلی ردعمل پیدا کیا ہے۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ان حملوں کی مذمت کی اور کہا: پاکستان کو اپنی بھلائی کے لیے افغانستان کے لوگوں اور زمین پر حملہ روک دینا چاہیے اور اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس علاقے کو مستحکم کرنے کا اکیلا راستہ باہمی احترام اور ثقافتی تعلقات کی پاسداری ہے۔

منظور پشتین: پاکستانی فوج خود ایک دہشت گرد ہے

پشتون تحفظ تحریک کے رہنما منظور پشتین نے حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: پاکستانی فوجی حکومت، دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے نام پر، ڈورانڈ لائن کے دونوں جانب دہشت گردانہ کارروائیاں کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پکتیکا صوبے پر ہونے والا حملہ، جس کے نتیجے میں کئی مقامی کرکٹ کھلاڑی ہلاک ہوئے، ریاستی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے۔ پشتین نے عوام کو واضح انصاف کے خلاف خاموش نہ رہنے کی بات کی۔

بین الاقوامی ردعمل: بروسلز سے واشنگٹن تک

ای یو کے خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کے اعلیٰ نمائندے کاجا کالاس نے دونوں جانب سے تناؤ میں اضافے سے گریز کرنے اور فائر بندی کو بڑھانے کی درخواست کی۔ دوسری طرف، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا: میں جانتا ہوں کہ پاکستان نے افغانستان پر حملہ کیا ہے۔ اس مسئلے کا حل میرے لیے سب سے آسان کام ہے، حالانکہ اس وقت میں امریکہ کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہوں۔

پاکستانی فوج کی نئی پوزیشن

پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے اپنی حالیہ ردعمل میں بھارت پر دہشت گردی کے مسئلے کا سیاسی استحصال کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اسلامی امارت افغانستان سے درخواست کی کہ وہ اس ملک کی سرزمین سے پاکستان پر حملہ کرنے والے گروپوں کو روکے۔

تناؤ میں اضافہ اور سرحدی جھڑپیں

تناؤ اس وقت شروع ہوا جب پاکستانی افواج نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پکتیکا صوبے پر بمباری کی۔ اس کارروائی کے بعد، اسلامی امارت افغانستان کی وزارت دفاع نے سرحدی علاقوں میں جوابی حملے کئے، جو مقامی ذرائع کے مطابق کئی پاکستانی سرحدی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

عوامی اور میڈیا کے ردعمل

افغانستان میں نسلی، مذہبی، اور سیاسی رہنماوں نے مشترکہ بیانات جاری کیے ہیں جن میں ان حملوں کی قومی خود مختاری کی خلاف ورزی اور واضح غیر ملکی مداخلت قرار دیا گیا ہے۔ عوامی سطح پر غیر ملکی اثر و رسوخ اور مغرب کے سامنے تسلیم کرنے کے خلاف نعرے پھیل گئے ہیں، اور مقامی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس نے بھی غیر ملکی حملوں کے خلاف افغان عوام کی مزاحمت کی عکاسی کرنے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے ہیں۔

مزاحمت کا سیاسی پیغام

افغان حکام کی سرکاری تقاریر میں مزاحمت کی عوامی نوعیت کو سیاسی آزادی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ یہ گفت و شنید، جو مغربی طاقتوں پر انحصار سے گریز پر زور دیتی ہے، نوجوان نسل کو یہ پیغام بھیجتی ہے کہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کو خود مختاری اور قومی وقار کے تحفظ پر مبنی ہونا چاہیے۔

آخری تجزیہ: اسلام آباد کا کابل پر سیاسی دباؤ

تجزیاتی ذرائع کا خیال ہے کہ پاکستان کی حالیہ جارحیت نئی کابل حکومت پر دباؤ ڈالنے کے فریم ورک میں ڈیزائن کی گئی ہے تاکہ اس کی خارجہ پوزیشنز کو تبدیل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد افغانستان کے مشرقی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی توسیع کو روکنے کے لیے تناؤ میں اضافہ کرتا ہے اور کابل کی خارجہ پالیسی کو اپنے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں