جب بین الاقوامی تنظیموں نے افغان عوام میں شدید غربت کی تشویش ظاہر کی تو حکومتی عہدیداروں کی شاندار محفلیں کابول کی حکومت میں ایک نئی اشرافیہ کی تشکیل کا پتہ دیتی ہیں…
سوشل میڈیا پر دو متضاد ویڈیوز کی ایک ساتھ نمائش نے افغانستان کے لوگوں کے درمیان غصے اور بے چینی کی ایک لہر پیدا کر دی ہے۔ پہلی ویڈیو میں، ایک عورت، جسے ایک سابق استاد قرار دیا جا رہا ہے، اپنے بچوں کی بھوک کے بارے میں روتے ہوئے آواز اٹھاتی ہے؛ دوسری طرف، دوسری ویڈیو میں طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی ایک شاندار ضیافت میں کباب اور عیش و عشرت کی سجاوٹ کے درمیان خوشی کے لمحات گزار رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے صارفین کا ماننا ہے کہ یہ تیز تضاد آج کے افغانستان کی ایک واضح عکاسی ہے اور طالبان کے بچت اور انصاف کے وعدوں کا ناکامی کا ثبوت ہے۔ جبکہ بین الاقوامی ادارے لاکھوں افغانوں کی شدید غربت کے بارے میں انتباہ دے رہے ہیں، حکومتی رہنماؤں کی عیش و عشرت کی محفلوں کی تصویریں کابول کی حکومتی اساس میں ایک امیر اشرافیہ کی ترقی کو اجاگر کرتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے پیش کردہ اقتصادی استحکام صرف کمانڈروں اور اہلکاروں کو فائدہ دیتا ہے، جبکہ عام شہری، بشمول اساتذہ اور پروفیشنلز، بے روزگاری اور مایوسی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بڑھتا ہوا تضاد گروپ کی مذہبی دعووں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے اور ملک کی سماجی استحکام کے لئے خطرناک نتائج کی صورت اختیار کرتا ہے۔