نورستان اور کنڑ صوبوں سے موصول ہونے والی تشویشناک رپورٹس میں پاکستان کے ساتھ زمین کے حوالے سے خفیہ مذاکرات کے اشارے مل رہے ہیں۔ مقامی ذرائع اور قبائلی رہنماؤں نے انتباہ دیا ہے کہ کچھ طالبان عہدیدار، جن میں نورستان کا گورنر بھی شامل ہے، جو پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، سٹریٹجک سرحدی علاقوں میں جغرافیائی تبدیلیوں کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
ان رپورٹس کے مطابق، مقامی طالبان فورسز دانستہ طور پر دوراند لائن کے قریب اہم پوسٹس سے پیچھے ہٹ رہی ہیں، تاکہ غیر مقامی فورسز ان کی جگہ لے سکیں۔ یہ اقدام غیر ملکی انٹیلیجنس کی دراندازی اور پاکستان کی جانب سے سرحدی سرگرمیوں میں اضافہ کے لیے راستہ ہموار کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی دوران، منظم نسلی تنازعات کی افزائش اور نورستان پر اقتصادی پابندی کو مقامی آبادی کو محکوم بنانے اور انہیں اپنے جنوبی ہمسایہ پر انحصار کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کے طور پر تعبیر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سرحدی مسائل کے انتظام کی قبائلی ڈھانچوں میں منتقلی اور پاکستان کی جانب سے ان مقامی معاہدات کی سرکاری توثیق قومی خودمختاری کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت ہیں۔ یہ نورستان کو افغانستان کے جغرافیائی منظرنامے میں خاموش تبدیلی کے آغاز کے نقطہ کے طور پر بدل سکتا ہے۔