حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 31 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

پاکستان میں افغان مہاجرین کی حراست میں خطرناک اضافہ، UNHCR کی رپورٹ

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (UNHCR) نے پاکستان میں افغان مہاجرین کی صورتحال پر ایک سنگین انتباہ جاری کیا ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ 2025 کے پہلے دس ماہ میں 100,000 سے زائد افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا اور ان کی ملک بدری کی گئی۔ یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ حراست میں لیے گئے لوگوں میں سے 24% نے پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ رکھا ہوا تھا، جو کہ قانونی پالیسی میں ایک نازک تبدیلی اور صرف قومی شناخت پر توجہ مرکوز کرنے کا اشارہ ہے...


دس ماہ میں 100,000 سے زائد افراد کی حراست

UNHCR نے پاکستانی افغان پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی بحران پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے پہلے دس ماہ میں 100,971 سے زیادہ افغان مہاجرین کو پاکستان سے حراست میں لیا گیا اور ملک بدر کیا گیا۔ یہ 2024 کے مقابلے میں ایک سخت اضافہ ہے، جب صرف 9,600 کیسز درج ہوئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ حراست کے واقعات بلوچستان کے چاغی اور کوئٹہ اضلاع اور پنجاب کے اٹک ضلع میں پیش آئے۔

پناہ گزین رجسٹریشن کارڈ رکھنے والوں کو نشانہ بنانا

UNHCR کی رپورٹ کا ایک خاص طور پر تشویشناک پہلو حراست میں لیے گئے افراد کی قانونی حیثیت سے متعلق ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں سے 76% کے پاس افغان شہری کارڈ (ACC) تھا یا ان کے پاس کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔ سب سے حیران کن حقیقت یہ ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں سے 24% تصدیق شدہ PoR کارڈ ہولڈرز تھے۔

یہ گروہ پہلے پاکستانی حکومت اور اقوام متحدہ کی جانب سے سرکاری تحفظ حاصل کر چکا تھا، لہذا ان کی حراست غیر تصوراتی تھی۔ یہ تبدیلی اس سال پاکستانی حکومت کی طرف سے اجاگر کردہ دو نئے عزم کے احکام کے بعد ہوئی ہے: اسلام آباد اور راولپنڈی کے دارالحکومت سے افغانوں کی زبردستی ملک بدری اور PoR کارڈ ہولڈرز کو حراست میں لینے کے دائرہ میں توسیع۔

پاکستان اور ایران میں موازی بحران

UNHCR نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان میں افغان خاندانوں کے لیے عالمی نقد امداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی وقت، ہمسایہ ملک ایران میں مہاجرین کی کمیونٹیز پر سیکیورٹی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے، جہاں اس سال ہزاروں افغانوں کو زبردستی واپس بھیجا جا رہا ہے۔

مفاہمت میں کمزوری اور علاقائی عدم استحکام کا خطرہ

PoR کارڈ ہولڈرز کی حراست کی توسیع سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی پالیسیوں کا انحصار اب مزید مہاجرین کی قانونی حیثیت پر نہیں بلکہ صرف قومی شناخت پر ہے۔ یہ اقدام پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان چالیس سالوں کی انسانی تعاون کو متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چونکہ افغانستان ایسے بڑے تعداد میں واپس آنے والوں کی میزبانی کی صلاحیت نہیں رکھتا، یہ جاری رجحان نہ صرف انسانی بحران کو بڑھا سکتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں علاقے میں سیکیورٹی کی عدم استحکام بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں