طالبان نے بدھ کے روز ملک میں مظاہروں پر پابندی کا دفاع کیا، جس پر انسانی حقوق کے گروپوں اور مذہبی علماء نے سختی سے تنقید کی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اسلامی قانون کے تحت ریاست میں سلامتی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، جبکہ علماء نے اس کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان، خاص طور پر خواتین، نے اس قانون کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے احتجاج کا حق ایک بنیادی انسانی حق قرار دیا ہے۔
متعلقہ خبریں