
عالمی ادارہ صحت نے افغانستان میں درجہ حرارت کے بڑھنے کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے اور مقامی لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ شدید گرمی کے خطرات سے بچنے کے لیے صحت کی تجاویز پر عمل کریں۔ ساتھ ہی، قومی آفات انتظامی اتھارٹی نے ملک کے کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرنے کی ممکنہ صورت حال کی اطلاع دی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے افغانستان میں درجہ حرارت میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقامی افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صحت کی رہنمائیوں پر عمل کریں تاکہ وہ شدید گرمی کے اثرات سے اپنے آپ اور اپنے خاندانوں کی حفاظت کریں۔
اتوار، 18 جولائی کو، WHO نے ایک پیغام کے ذریعے اعلان کیا کہ باقاعدہ پانی پینا، ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہننا، چوڑے ڈنڈوں والی ٹوپیاں استعمال کرنا، ٹھنڈے پانی سے نہانا، اور ہلکے پھلکے کھانے کھانا شدید گرمی کے خطرات سے بچنے کے لیے سب سے اہم حکمت عملیوں میں شامل ہیں۔ اس ادارے نے زور دیا کہ ان رہنماؤں پر عمل کرنے سے ہیٹ اسٹروک اور دیگر گرمی سے متعلق صحت کے مسائل کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
WHO نے مزید آگاہی دی ہے کہ مکین جتنی ممکن ہو، سایہ دار اور ٹھنڈی جگہوں پر رہنے کی کوشش کریں اور ہر روز کئی گھنٹے ایسے ماحول میں گزاریں جہاں درجہ حرارت راحت افزا ہو۔ اس کے علاوہ، ادارے نے دن کے گرم ترین اوقات میں طاقتور جسمانی سرگرمیوں سے پرہیز کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
یہ انتباہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ بچوں کو کبھی بھی پارک کی گئی گاڑیوں میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ اندرونی درجہ حرارت کا تیز بڑھنا ان کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ انتباہ قومی آفات انتظامی اتھارٹی کی جانب سے ایک اعلان کے بعد آیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بدھ تک افغانستان کے کچھ شمالی اور مغربی صوبوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر جائے گا۔
آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں اضافے کی توقع سے گرمی کی کمزوری، پانی کی کمی، اور دیگر گرمی سے متعلق پیچیدگیوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے ذمہ دار اداروں نے مقامی لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ صحت اور حفاظت کی تجاویز کو سنجیدگی سے لیں۔