عالمی ادارہ صحت نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی درجہ حرارت کے حوالے سے انتباہ جاری کیا ہے جس میں شہریوں کو صحت کے مشوروں پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے تاکہ شدید گرمی سے منسلک خطرات کو کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، قومی قدرتی آفت کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ملک کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے 27 جولائی بروز ہفتہ اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ باقاعدہ ہائیڈریشن، ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہننے، چوڑے ٹوپیاں استعمال کرنے، ٹھنڈے شاور لینے اور ہلکے کھانے کی اشیاء کا استعمال کرنا شدید گرمی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اہم حکمت عملی ہیں۔ ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ ان مشوروں کی پابندی کرنے سے ہیٹ ایگزوستین اور دیگر گرمی سے متعلقہ مسائل کے خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ جتنا بھی ہو سکے سایہ دار اور ٹھنڈی جگہوں پر رہیں اور روزانہ کچھ گھنٹوں کے لیے ایسی جگہوں پر گذاریں جہاں درجہ حرارت مناسب ہو۔ مزید برآں، ادارے نے سفارش کی کہ دن کے گرم ترین حصے میں سخت جسمانی سرگرمیوں سے پرہیز کیا جائے۔
ان انتباہات میں یہ بھی بتایا گیا کہ بچوں کو کبھی بھی گاڑیوں میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ گاڑی کے اندر تیزی سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت ان کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب قومی قدرتی آفت کی انتظامیہ نے یہ اعلان کیا کہ شمالی اور مغربی افغانستان کے کئی صوبوں میں بدھ تک درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں اضافہ ہیٹ ایگزوستین، پانی کی کمی، اور دیگر گرمی سے متعلق پیچیدگیوں کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے ذمہ دار حکام شہریوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ صحت اور حفاظت کے احتیاطی تدابیر کو سنجیدگی سے لیں۔