تاشقند میں ایک تجارتی اجلاس کے دوران، ازبکستان اور قازقستان نے افغانستان کے لیے اپنی برآمدات کو 3 بلین ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سال کے پہلے سات ماہ میں، قازقستان کی افغانستان کو برآمدات 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
ازبکستان اور قازقستان کے درمیان تاشقند میں ہونے والی تجارتی میٹنگ کے نتیجے میں افغانستان کی مارکیٹ میں اپنی برآمدات کو 3 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے۔ یہ اقدام اس اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے جو افغانستان دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں ادا کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، قازقستان کی افغانستان کو برآمدات اس سال کے پہلے سات مہینوں میں تقریباً 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال کی کل برآمدات کے برابر ہیں۔
اجلاس کے دوران، دونوں ممالک کے اقتصادی عہدیداروں نے افغان مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مطالبے اور تجارت کو بڑھانے کی دستیاب صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔ ایسے عوامل نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں جو ان کے تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
برآمدات کے علاوہ، افغانستان سے خام معدنیات کی درآمد کے بارے میں بھی بات چیت جاری ہے۔ مذاکرات جاری ہیں تاکہ ازبکستان میں بڑے المالیق کان کنی اور دھات کاری کمپلیکس کے لیے کچھ معدنیات جیسے زنک کی فراہمی کو آسان بنایا جا سکے۔
اجلاس کے دوران ازبکستان کی چیمبر آف کامرس کے اہلکاروں نے نقل و حمل کے اخراجات اور سامان کی ترسیل کے لیے لاجسٹس کے مسائل کو حل کرنے کی حکمت عملیوں پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ترک مال بردار گاڑیوں کی صلاحیت استعمال کرنے کی تجویز دی۔
ازبکستان اور قازقستان نے افغانستان اور اس کے جنوبی ممالک کی طرف جانے والے راستوں پر اپنے تجارتی تعاون کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس تعاون میں تجارتی وفود بھیجنے اور نئی مارکیٹوں میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کا عمل شامل ہوگا۔