طالبان کی واپسی کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر، اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل امی ن محمد نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
طالبان کی واپسی کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر، امی ن محمد نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ ایک بے باک پیغام میں، انہوں نے ان خواتین کی قانونی حیثیت پر روشنی ڈالی اور ذکر کیا کہ انہیں اپنے بنیادی حقوق کی کئی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
اپنے بیان میں، محمد نے انکشاف کیا کہ افغان خواتین اور لڑکیاں اس کمی کا بھاری بوجھ اٹھا رہی ہیں، اور ان کی مستقبل کی امیدیں اور خواب مسلسل ملتوی ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے درخواست کی کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور لاتعلق نہ رہیں۔
اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ افغان خواتین کی حمایت ایک اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ان خواتین کی کوششوں کا ساتھ دیں، جو اپنے ملک کا مستقبل سنوارنے کی جدوجہد کر رہی ہیں، اور ان کی مدد کریں۔
امی ن محمد کا یہ بیان عالمی برادری کو اس بات کی سخت یاد دہانی کراتا ہے کہ افغان خواتین کے حالات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین کی شرکت اور حمایت ایک صحت مند اور پائیدار معاشرے کے حصول کے لئے ضروری ہے۔