حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 17 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

کنر زلزلے کے متاثرین کی مشکلات: ایک سال بعد بھی خیموں میں رہائش

Earthquake Kunar

ایک سال گزر چکا ہے مگر کنر کے زلزلہ متاثرین اب بھی خیموں میں رہ رہے ہیں۔ رہائش، پینے کے پانی، اور صحت کی سہولیات کی کمی نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔


کنر زلزلے کے متاثرین ایک سال بعد بھی خیموں میں رہ رہے ہیں

کنر صوبے میں، زلزلے کے متاثرین ایک سال بعد بھی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ فوری طور پر رہائش اور بنیادی خدمات کی فراہمی کی درخواست کر رہے ہیں۔

کنر زلزلے کے متاثرین کے لئے وعدہ کردہ 5% سے بھی کم گھر بنائے گئے ہیں

اعداد و شمار کے مطابق، طالبان حکومت کی جانب سے فراہم کردہ وعدوں کے تحت صرف 36 گھر زلزلہ متاثرین کے لئے مختص کئے گئے ہیں، جو کہ انتہائی کم ہے۔ زیادہ تر متاثرین اب بھی مستقل رہائش کا انتظار کر رہے ہیں۔

وزارت دفاع طالبان: کنر زلزلہ متاثرین کے لئے 36 گھر بنائے گئے ہیں

اگست کے وسط میں طالبان کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ 36 گھر تیار کرکے زلزلہ متاثرین کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔ تاہم، متاثرین کو اب بھی مناسب رہائش کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

کنر زلزلے کے متاثرین کی مشکلات: پانی اور صحت کی سہولیات کی کمی

کنر میں متاثرین کے رہائشی حالات انتہائی مشکل ہیں۔ صاف پینے کے پانی اور صحت کی سہولیات کی کمی نے ان کی روزمرہ زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جس سے خواتین اور بچوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔

کنر زلزلے کے متاثرین کے مسائل جاری؛ وعدے پورے نہیں ہوئے

زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے بہت سے وعدے کیے گئے تھے، لیکن متاثرین کی رپورٹوں کے مطابق ان میں سے زیادہ تر وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے، اور وہ ابھی بھی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں