ایک سال گزر چکا ہے مگر کنر کے زلزلہ متاثرین اب بھی خیموں میں رہ رہے ہیں۔ رہائش، پینے کے پانی، اور صحت کی سہولیات کی کمی نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
کنر صوبے میں، زلزلے کے متاثرین ایک سال بعد بھی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ فوری طور پر رہائش اور بنیادی خدمات کی فراہمی کی درخواست کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، طالبان حکومت کی جانب سے فراہم کردہ وعدوں کے تحت صرف 36 گھر زلزلہ متاثرین کے لئے مختص کئے گئے ہیں، جو کہ انتہائی کم ہے۔ زیادہ تر متاثرین اب بھی مستقل رہائش کا انتظار کر رہے ہیں۔
اگست کے وسط میں طالبان کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ 36 گھر تیار کرکے زلزلہ متاثرین کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔ تاہم، متاثرین کو اب بھی مناسب رہائش کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
کنر میں متاثرین کے رہائشی حالات انتہائی مشکل ہیں۔ صاف پینے کے پانی اور صحت کی سہولیات کی کمی نے ان کی روزمرہ زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جس سے خواتین اور بچوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔
زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے بہت سے وعدے کیے گئے تھے، لیکن متاثرین کی رپورٹوں کے مطابق ان میں سے زیادہ تر وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے، اور وہ ابھی بھی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔