حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : شنبه, 15 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

افغانستان میں سینما کی بندش: ثقافتی بحران کے پانچ سال

سینما در افغانستان

طالبان کی واپسی کے پانچ سال بعد بھی افغانستان میں سینما بند ہیں، جس کا اثر فلمی صنعت پر پڑا ہے اور بہت سے شہری عدم اطمینان کا شکار ہیں۔


افغانستان میں سینما عام عوام کے لیے بند

طالبان کی حکومت کے پانچ سال گزر جانے کے باوجود افغانستان میں سینما اب بھی بند ہیں۔ سینما ایکٹوسٹ موسیٰ رادمینش نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سینما تعلیم اور تفریح کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔

فلم کی پیداوار میں پانچ سال میں شدید مشکلات

افغان فلم سازوں کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ کئی خود مختار فلم پروڈیوسر، جو پہلے آزادانہ طریقے سے کام کر رہے تھے، اب اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں ناکام ہیں۔

معلومات و ثقافت کی وزارت کی طرف سے سینما کی بندش پر خاموشی

طالبان کی وزارت اطلاعات و ثقافت کے ترجمان، خبیب غفران، سے بار بار تبصروں کی درخواستیں بے جواب ہیں۔ وزارت نے سینما کی بندش کے حوالے سے کوئی وضاحت فراہم نہیں کی۔

سینما: معاشرے کی بنیادی ضرورت؛ افغان فلم سازوں کی آوازیں

افغان سینماٹوگرافرز اسوسی ایشن کے صدر، سفیور آہنگھیل، نے بیان دیا کہ لوگوں کو تفریح کی ضرورت ہے، اور سینما کی بندش معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے یہ بات واضح کی کہ سینما ایک عالمی واقعہ ہے۔

افغانستان میں سینما کی تاریخ: تعارف سے بندش تک

افغانستان میں سینما کا تعارف 1923 میں ہوا اور مختلف ادوار میں، بشمول محمد ظاہر شاہ کے دور میں، نمایاں ترقی کا سامنا کیا۔ تاہم، آج یہ صنعت بحران کا شکار ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں