طالبان کی واپسی کے پانچ سال بعد بھی افغانستان میں سینما بند ہیں، جس کا اثر فلمی صنعت پر پڑا ہے اور بہت سے شہری عدم اطمینان کا شکار ہیں۔
طالبان کی حکومت کے پانچ سال گزر جانے کے باوجود افغانستان میں سینما اب بھی بند ہیں۔ سینما ایکٹوسٹ موسیٰ رادمینش نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سینما تعلیم اور تفریح کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔
افغان فلم سازوں کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ کئی خود مختار فلم پروڈیوسر، جو پہلے آزادانہ طریقے سے کام کر رہے تھے، اب اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں ناکام ہیں۔
طالبان کی وزارت اطلاعات و ثقافت کے ترجمان، خبیب غفران، سے بار بار تبصروں کی درخواستیں بے جواب ہیں۔ وزارت نے سینما کی بندش کے حوالے سے کوئی وضاحت فراہم نہیں کی۔
افغان سینماٹوگرافرز اسوسی ایشن کے صدر، سفیور آہنگھیل، نے بیان دیا کہ لوگوں کو تفریح کی ضرورت ہے، اور سینما کی بندش معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے یہ بات واضح کی کہ سینما ایک عالمی واقعہ ہے۔
افغانستان میں سینما کا تعارف 1923 میں ہوا اور مختلف ادوار میں، بشمول محمد ظاہر شاہ کے دور میں، نمایاں ترقی کا سامنا کیا۔ تاہم، آج یہ صنعت بحران کا شکار ہے۔