طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل کے اقتدار پر قبضے کی پانچویں سالگرہ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی آزادی کے خلاف کوئی بھی دھمکی ناکام ہوگی، اور افغانوں سے کہا کہ وہ اپنے ملک کی آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے کوششیں کریں۔
ذبیح اللہ مجاہد، جو طالبان حکومت کے ایک اہم عہدیدار ہیں، نے کابل کے قبضے کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر کہا کہ افغانستان کی خود مختاری کے خلاف کسی بھی دھمکی کا مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے 15 اگست کو قوم کی آزادی اور خود مختاری کی علامت قرار دیا اور آئندہ نسلوں سے کہا کہ وہ اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں۔
مجاہد نے افغانستان کے لوگوں کے لیے 15 اگست کے پیغام پر زور دیا کہ وہ اپنے اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھیں تاکہ ملک کی آزادی کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے افغانستان کے دشمنوں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے قوم کے خلاف بیخودی نیتیں رکھیں تو ان کا بھی یہی حشر ہوگا۔
ترجمان نے افغانستان کے خارجہ تعلقات پر بھی بات کی، یہ کہتے ہوئے کہ حکومت مختلف ممالک کے ساتھ “اچھے اور تعمیری” تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجاہد نے افغانستان کے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو زیادہ تر مثبت قرار دیا، ایک استثنا کے ساتھ۔
انہوں نے سیکیورٹی کو طالبان کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا، یہ کہتے ہوئے کہ سیکیورٹی فورسز استحکام برقرار رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ مجاہد نے بیرون ملک مقیم افغانوں سے کہا کہ وہ بغیر خوف کے اپنے وطن واپس آئیں، مزید کہا کہ عام معافی کے تحت کسی کو افغانستان واپس آنے سے منع نہیں کیا گیا ہے۔
مجاہد نے اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر طالبان کی ترجیحات میں سے ایک قرار دیا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ بنیادی ڈھانچوں آنے والے سالوں میں آمدنی کے ذرائع بنیں گے۔ ان کے مطابق، افغانستان خودکفالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔