حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 16 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

طالبان کی غیر ملکی فوجی موجودگی کے خلاف سخت مؤقف: اقتصادی تعاون کی تجویز

یک شخص با دستار سیاه پشت میز صحبت می‌کند؛ پرچم طالبان در پس‌زمینه

طالبان کے وزیر خارجہ نے ٹرمپ کے فوجی موجودگی کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عوام کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کو مسترد کرتے ہیں اور اقتصادی تعاون پر زور دیتے ہیں۔


طالبان: کوئی افغان غیر ملکی فوجی موجودگی تسلیم نہیں کرتا

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے نیو یارک ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ افغان غیر ملکی فوجی قوتوں کی اپنے ملک میں موجودگی نہیں چاہتے۔ انہوں نے ٹرمپ کی بگرام اڈے کی واپسی کے لیے بار بار کی درخواستوں کا ذکر کیا اور کہا، “کوئی افغان کسی دوسرے ملک کی فوجی موجودگی افغانستان میں نہیں چاہتا۔”

طالبان کے وزیر خارجہ کا امریکہ سے اقتصادی تعلقات کا مطالبہ

متقی نے مزید کہا کہ یہ مخالفت امریکہ کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات منقطع کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ واشنگٹن کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے اور افغانستان کے اقتصادی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے۔

امیر خان متقی کا ٹرمپ کو: فوجی موجودگی ناقابل برداشت ہے

وزیر خارجہ نے ایسے شعبے کی نشاندہی کی جہاں امریکی سرمایہ کاری فائدہ مند ہو سکتی ہے، جیسے افغانستان کی کانیں، ڈیمز اور سڑکیں۔ انہوں نے ان منصوبوں کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک “نئے باب” کا حصہ قرار دیا۔

طالبان کے امریکہ کے ساتھ فوجی موجودگی کے خلاف ہیں، مگر تعلقات میں دراڑ نہیں چاہتے

اس کے برعکس، متقی نے امریکہ میں افغان سفارتی مشنز کے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ یہ اس وقت ہوا ہے جب امریکی وزارت خارجہ نے طالبان کے ساتھ تعلقات دوبارہ شروع کرنے کی امکانات پر منفی ردعمل دیا ہے۔

طالبان حکومت عالمی تنہائی توڑنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے

نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ کابل نے روس کے ساتھ دفاعی معاہدے اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاکہ اپنی تنہائی سے نکل سکے۔ مزید برآں، کچھ سابقہ امریکی سفارتکار واشنگٹن اور طالبان کے درمیان بات چیت کے دوبارہ شروع ہونے کی حمایت کر رہے ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں