امریکی حکومت نے 12 افغان پناہ گزینوں کو وسطی افریقی جمہوریہ میں ڈی پورٹ کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد مہاجرین کو تیسرے ممالک میں منتقل کرنا ہے۔
ہفتہ کے روز، امریکی حکومت نے 12 افغان پناہ گزینوں کو آٹھ ایرانی شہریوں کے ساتھ جنگ زدہ وسطی افریقی جمہوریہ میں ڈی پورٹ کیا۔ یہ پرواز ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع امیگریشن پالیسی کی جاری رہائش کی نمائندگی کرتی ہے، جو مہاجرین کو تیسرے ممالک میں منتقل کرنے پر زور دیتی ہے۔
افغان پناہ گزینوں میں ایک ایسا فرد بھی شامل ہے جو اپنے بھائیوں کے امریکی افواج کے ساتھ تعاون کی بنا پر امریکہ میں قانونی تحفظ کا مستحق رہا۔ اس نے اپنی فیملی کی حفاظت کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے، جو اس تعاون کی وجہ سے خطرات کی زد میں ہیں۔ اس کا ایک بھائی افغان فوج میں خدمات انجام دے چکا ہے اور اس وقت امریکہ میں مقیم ہے، جبکہ دوسرا بھائی امریکہ میں تربیت یافتہ پائلٹ تھا مگر بدقسمتی سے اس کی جان چلی گئی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں، بشمول افغان ایواک اور فرسٹ ہیومن رائٹس، نے تصدیق کی ہے کہ اس فرد کو وسطی افریقی جمہوریہ میں ڈی پورٹ کیا گیا ہے، ایک ایسا ملک جو شدید عدم تحفظ اور مسلح تصادم کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو اس علاقے میں سفر کرنے سے منع کیا ہے۔
مہاجرین کے حقوق کے حامی اور امیگریشن کے وکلاء کا ماننا ہے کہ ایسی معاہدے پناہ گزینوں کے قانونی تحفظات سے بچنے کے لیے ایک آلہ کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کا وسطی افریقی جمہوریہ میں یہ تیسرا اسی قسم کی پرواز ہے۔
حالیہ مہینوں میں، امریکہ نے ہزاروں مہاجرین کو تیسرے ممالک میں منتقل کیا ہے، جن میں سے کئی کا ان علاقوں سے کوئی سابقہ تعلق نہیں ہے۔ اس عمل نے انسانی حقوق کے حامیوں کے درمیان مزید تشویش پیدا کی ہے، جو ان پالیسیوں کی مزید جانچ پڑتال کا مطالبہ کر رہے ہیں۔