حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 31 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

افغان سیکیورٹی فورسز کی سرحدوں پر موجودگی، ہمسایہ ممالک کو تحفظ کی یقین دہانی

دو مرد مسلح با لباس نظامی در برابر ایک عمارت

طالبان کی وزارت دفاع کے ترجمان صدیق اللہ نصرت کے مطابق، افغان سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں پر باقاعدگی سے تعینات ہیں، یہ یقینی بنانے کے لیے کہ افغانستان سے دوسرے ملکوں کی طرف کوئی خطرہ نہیں پہنچتا۔


افغان فورسز کی جانب سے سرحدی سیکیورٹی کی ضمانت

صدیق اللہ نصرت نے کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز مستقل طور پر سرحدوں پر موجود ہیں اور افغان سرزمین سے دوسرے ممالک کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بیانات علاقائی ممالک کی جانب سے اُٹھائے جانے والے خدشات کے جواب میں دیے۔

طالبان کی سیکیورٹی پالیسی

نصرت نے زور دیا کہ افغانستان فی الحال ایک آزاد نظام کے تحت کام کر رہا ہے، اور اس کی سرحدوں میں کوئی ایسا گروپ یا فرد موجود نہیں ہے جو دوسرے ممالک کے لیے خطرہ بن سکتا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کی پالیسی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ کوئی بھی گروہ دوسرے ممالک کی سیکیورٹی کو افغان سرزمین سے خطرے میں نہیں ڈال سکے۔

سرحدی فورسز اور سیکیورٹی کنٹرول

انہوں نے سرحدی فورسز کی سرگرمیوں کو بھی اجاگر کیا، مزید بتایا کہ یہ باقاعدہ طور پر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور کسی بھی قسم کی عدم سیکیورٹی یا تخریب کاری کی کارروائیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔

ہمسایہ ممالک کے لیے سرحدی سیکیورٹی کی یقین دہانی

نصرت نے افغانستان کے لوگوں اور ہمسایہ ممالک کو یقین دلایا کہ سرحدوں کی سیکیورٹی کی صورت حال کنٹرول میں ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ بیان کئی علاقائی ممالک اور اجتماعی سیکیورٹی معاہدے کی تنظیم کی جانب سے افغانستان سے ابھرتے ہوئے مسلح گروہوں اور سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے اُٹھائے گئے خدشات کے درمیان آیا ہے۔

طالبان کا سیکیورٹی خدشات پر جواب

طالبان نے پہلے بھی اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور سیکیورٹی خطرات سے متعلق خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہ موقف طالبان کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے اور خطے میں امن کو برقرار رکھنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں