طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان میں صورتحال امریکی افواج کے انخلا کے بعد بہتر ہوئی ہے، اور اب افغانوں کو اپنے ملک کی تعمیر نو پر توجہ دینی چاہیے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھارتی میڈٰیا ادارے ‘آر ٹی’ کے ساتھ ایک گفتگو میں کہا کہ افغانستان پانچ سال بعد امریکی افواج کے انخلا کے بعد ایک نمایاں طور پر بہتر صورت حال کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس انخلا نے ملک کی آزادی میں کردار ادا کیا ہے، اور اب افغانستان کی تعمیر نو کی ذمہ داری اس کے شہریوں پر ہے۔
مجاہد نے یہ بھی اظہار کیا کہ کابل واشنگٹن کے ساتھ معمول کے سفارتی روابط قائم کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک میں سفارتی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر تعلقات کے لیے امریکہ کی افغان پالیسیوں میں تبدیلی ضروری ہے، اور پابندیاں اٹھائی جانی چاہئیں۔
طالبان کی اندرونی پالیسیوں اور خواتین و لڑکیوں پر عائد پابندیوں کے بارے میں مجاہد نے کہا کہ گروپ کا ماننا ہے کہ ان شعبوں میں تبدیلیوں کی شناخت کے لیے ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مذہبی عقائد اور افغانستان کی مخصوص قوانین کی پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
طالبان کے ترجمان نے مزید کہا کہ کابل علاقے میں امن کے قیام کی وکالت کر رہا ہے اور کسی بھی ملک، بشمول پاکستان، کے ساتھ تنازعات میں شامل نہیں ہو گا۔ یہ بیانات طالبان کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ علاقے میں استحکام برقرار رکھنا اور کشیدگی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔