
ترکی میں افغان پناہ گزینوں نے مقامی پولیس کی جانب سے گرفتاریوں اور بے دخلیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث ان کی اقتصادی اور سلامتی کی صورتحال شدید دباؤ کا شکار ہے۔
حالیہ مہینوں میں ترکی میں ایک بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مزید گرفتاریوں اور بے دخلیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ صورتحال ان پناہ گزینوں میں اضطراب اور خوف کی فضاء پیدا کر رہی ہے۔
ترکی کی امیگریشن اتھارٹی نے رپورٹ کیا کہ اس سال کے پہلے سات مہینوں کے دوران 22,483 افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان افراد کی اکثریت کو رہائش کے اجازت ناموں کی عدم دستیابی کی وجہ سے گرفتار کیا گیا، جو انہیں گرفتار شدگان میں سب سے بڑی تعداد بنا دیتا ہے۔
افغان پناہ گزین ترکی حکومت اور بین الاقوامی تنظیمات سے اپنی مسائل کے حل کی اپیل کر رہے ہیں۔ محمد، جو کہ ایک پناہ گزین ہے، نے بتاتے ہوئے کہا کہ وہ پچھلے چار سال میں دو بار گرفتار ہو چکا ہے اور قانونی دستاویزات کی کمی کی وجہ سے جیل میں بھی رہا۔
کچھ پناہ گزینوں نے افغانستان میں اقتصادی چالینجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندانوں کے لیے بہتر حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، گرفتاریوں اور بے دخلیوں کے خدشات نے ان کی روزمرہ کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
ترکی، جو کہ افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک اہم منزل ہے، نے حالیہ سالوں میں غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے اپنی سیکیورٹی کے اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ صورتحال ملک میں پناہ گزینوں کو درپیش آنے والے نئے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔