افغانیوں کی امریکہ میں داخلے کے سلسلے میں امریکی وفاقی عدالت کا حالیہ فیصلہ افغان مہاجرین کی آمد کے دروازے کھولنے کی ضمانت نہیں دیتا، اور پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔
افغان مہاجرین کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے ادارے افغانEvac کے صدر شون ون ڈائیک نے حال ہی میں کہا ہے کہ 75 ممالک کے شہریوں، جن میں افغانستان بھی شامل ہے، کے لئے ویزوں سے متعلق امریکی وفاقی عدالت کا نیا فیصلہ افغانوں کی امریکہ میں داخلے کی حیثیت پر اثر انداز نہیں ہوا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے ذکر کیا کہ 21 اگست کو عدالت نے ریاستہائے متحدہ کے محکمہ خارجہ کی اُس پالیسی کو کالعدم قرار دیا جو 21 جنوری 2026 سے نافذ تھی۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ قونصلر اہلکار اب کسی فرد کے پیدائش کی جگہ کے بنیاد پر ویزے جاری کرنے سے انکار نہیں کر سکتے اگر وہ بصورت دیگر اہل ہیں۔
ون ڈائیک نے مزید کہا کہ یہ نئی پالیسی ایک بڑی داخلہ پابندی سے مختلف ہے جو 1 جنوری 2026 سے نافذ ہے۔ یہ حکم افغان شہریوں اور دیگر کئی ممالک کے شہریوں کی آمد پر پابندیاں جاری رکھتا ہے۔
انہوں نے افغانیوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی اور کہا کہ صرف میڈیا کی خبروں پر انحصار نہ کریں، اور بغیر اپوائنٹمنٹ کے امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کا وزٹ کرنے سے گریز کریں۔ ون ڈائیک نے یہ بھی ذکر کیا کہ اگر کسی فرد کی ویزا درخواست معطل پالیسی کی وجہ سے مسترد کردی گئی ہے تو ان کا معاملہ دوبارہ قونصلر حکام کے پاس جانچنے کے لئے واپس بھیجا جائے گا، لیکن ویزے کی اجرائی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
ون ڈائیک نے امریکی محکمہ خارجہ سے واضح طریقہ کار فراہم کرنے اور واپس کئے گئے کیسز کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان افغانوں کے لئے ویزے کی اہلیت کو دوبارہ بحال کیا جائے جو پہلے ویزے کے لئے اہل قرار دیئے گئے تھے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے امریکی کانگریس سے درخواست کی کہ ان افراد کے داخلے اور قبولیت کے عمل کو تیز کریں تاکہ افغان ہجرت سے جڑی جاری چیلنجز کا حل نکالا جا سکے۔