عبداللہ سرحدی، بامیان کے سابق طالبان گورنر، نے 2001 میں بامیان میں موجود بڑے بدھ مت کے مجسموں کو ذاتی طور پر تباہ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو 'اللہ کے قانون' کے مطابق قرار دیا اور اس پر کوئی افسوس بھی ظاہر نہیں کیا۔
بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں عبداللہ سرحدی نے بامیان میں بدھ مت کے شاندار مجسموں کی تباہی میں اپنی شمولیت کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمل کو انہوں نے خود 2001 میں انجام دیا۔ سرحدی، جو اس وقت طالبان کے ایک ملٹری کمانڈر بھی تھے، نے ابتدائی طور پر اپنے اعمال کے بارے میں سوالات کے جواب دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کی، لیکن آخرکار ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا، “میں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے توڑا۔”
سابق طالبان گورنر نے بدھ مت کے مجسموں کی تباہی کو ‘راہنمائی اور اللہ کے قانون’ کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ طالبان بتوں کو نہیں بیچتے بلکہ انہیں توڑتے ہیں، اور یہ کہ انہیں اس عمل پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ بامیان میں موجود عظیم بدھ مت کے مجسمے مارچ 2001 میں طالبان کے رہنماؤں کے حکم پر تباہ کیے گئے، جس نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے اور مذمت کو جنم دیا اور یہ افغانستان میں ثقافتی ورثے کی تباہی کے سب سے بڑے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
بدھ مت کے مجسموں کا انہدام افغانستان کی تاریخی لائن اور موجودہ بیانیے میں ایک منفی موڑ کے طور پر نمایاں طور پر درج ہے۔ اس عمل نے افغانستان کی عالمی شبیہ پر گہرا اثر ڈالا ہے اور ملک کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے اہم خدشات کو جنم دیا ہے۔