حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : سه‌شنبه, 25 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

سابق طالبان گورنر نے بامیان میں بدھ مت کے مجسموں کی تباہی کا اعتراف کر لیا

مقایسه تصویر تندیس بودای بامیان قبل اور بعد از تخریب

عبداللہ سرحدی، بامیان کے سابق طالبان گورنر، نے 2001 میں بامیان میں موجود بڑے بدھ مت کے مجسموں کو ذاتی طور پر تباہ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو 'اللہ کے قانون' کے مطابق قرار دیا اور اس پر کوئی افسوس بھی ظاہر نہیں کیا۔


عبداللہ سرحدی کا بدھ مت کے مجسموں کی تباہی کا اعتراف

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں عبداللہ سرحدی نے بامیان میں بدھ مت کے شاندار مجسموں کی تباہی میں اپنی شمولیت کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمل کو انہوں نے خود 2001 میں انجام دیا۔ سرحدی، جو اس وقت طالبان کے ایک ملٹری کمانڈر بھی تھے، نے ابتدائی طور پر اپنے اعمال کے بارے میں سوالات کے جواب دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کی، لیکن آخرکار ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا، “میں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے توڑا۔”

ثقافتی ورثے کی تباہی کے جواز

سابق طالبان گورنر نے بدھ مت کے مجسموں کی تباہی کو ‘راہنمائی اور اللہ کے قانون’ کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ طالبان بتوں کو نہیں بیچتے بلکہ انہیں توڑتے ہیں، اور یہ کہ انہیں اس عمل پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ بامیان میں موجود عظیم بدھ مت کے مجسمے مارچ 2001 میں طالبان کے رہنماؤں کے حکم پر تباہ کیے گئے، جس نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے اور مذمت کو جنم دیا اور یہ افغانستان میں ثقافتی ورثے کی تباہی کے سب سے بڑے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔

ثقافتی ورثے کی تباہی کے نتائج

بدھ مت کے مجسموں کا انہدام افغانستان کی تاریخی لائن اور موجودہ بیانیے میں ایک منفی موڑ کے طور پر نمایاں طور پر درج ہے۔ اس عمل نے افغانستان کی عالمی شبیہ پر گہرا اثر ڈالا ہے اور ملک کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے اہم خدشات کو جنم دیا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں