افغانستان کے جنوبی صوبوں، خاص کر قندھار اور ہلمند کے کچھ اہم علاقہ جات میں پولیو ویکسین مہم کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ یہ مہم پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو اس لاعلاج بیماری سے بچانے کے لیے اہم قدم ہے...
پولیو کے کنٹرول اور ختم کرنے کے صحت کے اقدامات کی خاطر افغانستان پولیو فری فاؤنڈیشن نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک اہم بیان جاری کیا، جس میں اعلان کیا گیا کہ آئندہ منگل کو قندھار اور ہلمند کے بعض علاقوں میں مخصوص پولیو ویکسینیشن مہم شروع کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق، یہ اہم مہم قندھار کے مرکز، ہلمند کے مرکز، اور بنیادی اضلاع مثلاً نحری سراج، موسیٰ قلعہ، واشر، ناد علی، اور مارجہ میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو مکمل صحت کی خدمات فراہم کرے گی۔
فاؤنڈیشن کے اہلکاروں نے پولیو کے خلاف خطرات کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کمیونٹی کے افراد، قبائلی رہنماؤں، اور خاص طور پر والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم کے دوران رضاکاروں اور صحت سے متعلق کارکنوں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ تمام اہل بچوں کی ویکسینیشن ہی اس خطرناک وائرس کا مکمل خاتمہ کرنے کا واحد راستہ ہے تاکہ افغانستان کو پولیو فری بنایا جا سکے۔ ڈاکٹروں نے متنبہ کیا ہے کہ پولیو ایک مہلک اور متعدی وائرل بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں، اور صرف باقاعدہ ویکسینیشن کے ذریعے ہی بچوں کو اس سے بچایا جا سکتا ہے۔
یہ علاقائی مہمات اس وقت شروع ہو رہی ہیں جب عالمی صحت تنظیم کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2023 کے آغاز سے افغانستان میں مثبت پولیو کیسوں کی تعداد چھ ہو چکی ہے۔ ان نئے کیسوں کا اندراج بین الاقوامی تنظیموں اور طبی پیشہ واروں میں شدید تشویش پیدا کر رہا ہے، یہ واضح کرتے ہوئے کہ کچھ علاقوں میں پولیو وائرس فعال طور پر موجود ہے، جو ملک کے مستقبل کی نسلوں کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن رہا ہے۔