حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 5 جولای , 2026 خبر کا مختصر لنک :

کابل میں جدید دل کے ہسپتال کا جلد افتتاح، 2,000 بچوں کو مفت علاج کی سہولت

ہیومنٹیرین ادارے ریڈ کریسنٹ کے جنرل ڈائریکٹر نے کابل میں ایک خصوصی ہسپتال کے جلد افتتاح کی خبر دی ہے، جو ہر سال تقریباً 2,000 بچوں کو پیدائشی دل کی بیماریوں کے مفت علاج فراہم کرے گا۔


کابل میں مفت خصوصی دل کے مرکز کا اعلان

افغانستان میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کی کوششیں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ ریڈ کریسنٹ کے جنرل ڈائریکٹر شیخ شہاب الدین ڈیلوار نے ایک خصوصی میڈیا انٹرویو میں انکشاف کیا کہ دل کے مریضوں کے لیے مکمل طور پر لیس ایک خصوصی ہسپتال جلد ہی کابل میں کھولا جائے گا۔ ان کے مطابق، یہ طبی مرکز ہر سال تقریباً 2,000 بچوں کے پیدائشی دل کے نقص کی سرجری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس خصوصی ہسپتال میں تمام تشخیصی اور طبی خدمات مقامی افراد کے لیے مکمل طور پر مفت ہوں گی، لیکن انہوں نے ہسپتال کے کھلنے کی مخصوص تاریخ کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

پیدائشی دل کے نقص کے علاج میں ریڈ کریسنٹ کی خدمات کا پس منظر

افغان ریڈ کریسنٹ کا یہ نیا اقدام ان کی جانب سے کیے گئے کئی پروگراموں کا تسلسل ہے، جو اس جان لیوا حالت میں مبتلا بچوں کی زندگی بچانے کے لیے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں، اس ادارے نے بہت سے بچوں کو علاج اور سرجری کے لیے کابل کے مختلف ہسپتالوں میں بھیجا ہے۔ تاہم، ایک مرکزی اور خصوصی سرکاری سہولت کی عدم موجودگی ہمیشہ عوامی صحت کے لیے ایک اہم چیلنج رہی ہے۔ نئے ہسپتال کے قیام سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ نجی ہسپتالوں اور ضرورت مند خاندانوں پر کافی دباؤ کم کرے گا۔

بین الاقوامی تعاون اور مریضوں کی بیرون ملک منتقلی

بچوں میں پیدائشی دل کے نقص کو افغانستان میں صحت کا ایک سنجیدہ مسئلہ مانا جاتا ہے، جو خاندانوں پر مالی بوجھ ڈالتا ہے۔ ملک میں جدید طبی سہولیات کی کمی کے باعث، ان بچوں کی بڑی تعداد، جو دیگر پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں، سالوں کے دوران خصوصی علاج کے لیے بیرون ملک بھیجی گئی ہیں۔ اس تناظر میں، جرمنی کی پیس ولیج فاؤنڈیشن نے افغان بچوں کے منتقلی، ہسپتال میں داخلے، اور جدید جرمن ہسپتالوں میں مفت علاج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کابل میں نئے ہسپتال کے آپریشنل ہونے کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ مریضوں کو بیرون ملک بھیجنے کی ضرورت میں نمایاں کمی آئے گی۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں