افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ نے کابل میں ایک خصوصی ہسپتال کے قریب کھلنے کی اطلاع دی ہے، جو ہر سال دل کے عوارض میں مبتلا تقریباً دو ہزار بچوں کو مفت علاج فراہم کرے گا۔
افغانستان میں صحت کے شعبے کو بہتر بنانے اور معیاری صحت کی خدمات تک رسائی کی کوششیں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ شیخ شہاب الدین دیلاور نے ایک میڈیا انٹرویو میں بتایا کہ جلد ہی کابل میں دل کے مریضوں کے لیے مکمل طور پر تیار اور خصوصی ہسپتال کا آغاز کیا جائے گا۔ دیلاور کے مطابق، یہ مرکز ہر سال تقریباً دو ہزار دل کے عوارض میں مبتلا بچوں کی سرجری اور علاج کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس خصوصی ہسپتال میں تمام تشخیصی اور طبی خدمات بالکل مفت فراہم کی جائیں گی، حالانکہ افتتاح کی صحیح تاریخ سے متعلق خاص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
افغان ریڈ کریسنٹ کی یہ نئی پہل ان مختلف پروگراموں کے جواب میں ہے جو اس ادارے نے اس مہلک حالت سے متاثرہ بچوں کی زندگی بچانے کے لیے پہلے شروع کیے تھے۔ پچھلے سالوں میں، کئی بچے دل کے عوارض کے ساتھ کابل کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیے گئے، جہاں ان کا سرجیکل علاج اور دیکھ بھال کی گئی۔ تاہم، حکومتی سطح پر ایک مرکز اور خصوصی سہولت کی عدم موجودگی نے ہمیشہ عوامی صحت کے شعبے میں ایک بڑی چیلنج کا سامنا کیا ہے۔ اس نئے ہسپتال کے قیام کے ساتھ، نجی ہسپتالوں اور ضرورت مند خاندانوں پر ایک بڑا بوجھ کم ہو جائے گا۔
بچوں میں دل کے عوارض افغانستان میں ایک سنگین صحت کا مسئلہ ہیں، جو علاج کے لیے خاندانوں پر بھاری مالی بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ ملک میں جدید طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے، ان میں سے کئی بچوں اور دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو سالوں کے دوران خصوصی نگہداشت کے لیے بیرون ملک بھیج دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں، جرمنی کی پیس ولیج فاؤنڈیشن نے اہم کردار ادا کیا ہے، جو افغان بچوں کی منتقلی، ہسپتال میں داخلے اور جرمنی کے جدید ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ کابل میں نئے ہسپتال کی فعالیت کے ساتھ، توقع کی جارہی ہے کہ مریضوں کی بیرون ملک منتقلی کی ضرورت میں نمایاں کمی آئے گی۔