حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 5 جولای , 2026 خبر کا مختصر لنک :

قازقستان کے سفیر کا افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر یقین، تجارتی تعلقات کو بڑھانے کی کوششیں جاری

کابل میں قازقستان کے سفیر نے افغانستان سے علاقائی ممالک، خاص طور پر پاکستان، کو درپیش سیکیورٹی خطرات کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال تسلی بخش ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آستانہ کابل کے ساتھ اپنے unprecedented تجارتی تعلقات کو تقریباً تین ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔


سیکیورٹی کی صورت حال اور علاقائی خدشات کا انکار

کابل میں قازقستان کے سفیر گازیض آکباسوف نے حال ہی میں کہا کہ افغانستان سے ہمسایہ ممالک میں عدم تحفظ کی برآمد کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے تصدیق کی کہ افغانستان کی سرحدوں کے اندر سے کوئی ایسا خطرہ موجود نہیں ہے جو پاکستان سمیت علاقائی ممالک کے مفادات کو متاثر کر سکے۔ سینیئر قازق دیپلو میٹ کے مطابق، افغانستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال نسبتاً مستحکم ہے، اور یہ سیکیورٹی وسطی ایشیا میں کثیر جہتی تعاون کے فروغ اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔

پابندیوں کے خلاف مخالفت اور آستانہ کا سرکاری شناخت کے بارے میں موقف

اپنے بیانات کے ایک اور حصے میں قازق سفیر نے افغانستان پر دباؤ ڈالنے اور پابندیاں عائد کرنے کے طریقہ کار کی تنقید کی، اس کو غیر مؤثر اور بے نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو اپنی حکمت عملیوں میں مکالمہ اور تعمیری مشغولیت کو ترجیح دینی چاہیے۔ کابل میں حکومتی اجزا کی شناخت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آستانہ کی خارجہ پالیسی اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مکمل عین مطابق ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری شناخت کی کمی نے عملی اور باہمی تعلقات کو جاری رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی، جو کہ اس وقت باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں۔

تین ارب ڈالر کی توقعات اور افغانستان کی ٹرانزٹ اہمیت

تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا آکباسوف کے بیانات کا ایک اور کلیدی نقطہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ کابل کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانا قازقستان کی خارجہ پالیسی کے ایجنڈے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان ایک بڑی سطح پر سیاسی اعتماد قائم ہو چکا ہے۔ قازق دیپلو میٹ نے افغانستان کی اسٹریٹیجک حیثیت کو اجاگر کیا، اور اس کی جغرافیہ کو علاقائی روابط کے لیے بے مثال بنیاد قرار دیا، جو نہ صرف افغانستان کی معیشت کو بہتر بنائے گا بلکہ پورے علاقے کے استحکام کو بھی یقینی بنائے گا۔ قازق سفیر کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم حالیہ سالوں میں تقریباً پانچ سو چالیس ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اور کابل اور آستانہ اس رقم کو جلد تین ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے ترقیاتی پروگراموں پر کام کر رہے ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں