افغان خاندانوں کا نئے ممالک میں ہجرت کرنا کئی چیلنجز پیش کرتا ہے، جن میں سے ایک اہم تشویش ان کے بچوں کی مادری زبان اور ثقافتی شناخت کا ممکنہ نقصان ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک خاندان کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ بہت سے افغانوں کو بھی متاثر کرتا ہے جو مغربی ممالک میں رہتے ہیں اور اسی طرح کی فکر کرتے ہیں...
شکر اللہ پاسون، ایک سابق افغان صحافی جو اب جرمنی میں مقیم ہیں، اپنے بچوں کے بارے میں اپنی عمیق تشویشات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے ایسے اسکولوں اور کمیونٹیز میں بڑے ہو رہے ہیں جہاں فارسی نہیں بولی جاتی، جس کی وجہ سے انہیں کافی تشویش ہے۔
پاسون کی تشویشات ان وسیع چیلنجز کی عکاسی کرتی ہیں جو کئی افغان مہاجرین مغربی ممالک میں سامنا کرتے ہیں۔ بہت سے والدین تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے بچے، خاص طور پر جو افغانستان سے باہر پیدا ہوئے ہیں، اپنی افغان شناخت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
خاندانوں کا ماننا ہے کہ کئی عوامل، جیسے تعلیمی نظام اور اپنی کمیونٹی میں نئے دوستی، ان تبدیلیوں کا سبب بنتے ہیں۔ افغان بچے زیادہ تر وقت گھر کے باہر گزارتے ہیں، جو کہ انہیں ان کی میزبان ملک کی ثقافت اور زبان کی طرف راغب کرتا ہے۔
فرانس میں مقیم ایک افغان مہاجر نے بھی اسی طرح کی تشویشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “یہ واقعی تشویش ناک ہے، کیونکہ میں اپنے بچوں کو اپنی مادری زبان بھولتے اور نئی ثقافت اپنا لیتے دیکھ رہا ہوں۔”
سماجی ماہرین یہ وضاحت کرتے ہیں کہ بچوں کے لیے ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنا صرف خاندانوں کی ذمہ داری نہیں ہے؛ بلکہ کمیونٹیز اور تعلیمی ادارے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لندن میں مقیم ماہر ایمان مرواند والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں اور یورپ بھر میں دوسرے افغان خاندانوں سے جڑیں۔