حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : پنج‌شنبه, 23 جولای , 2026 خبر کا مختصر لنک :

افغان طلبہ کو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے بے دخل کرنے کی ہدایت کی مذمت

بین الاقوامی افغان طلبہ تنظیم نے لاہور، پاکستان میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی حالیہ ہدایت کی سخت مذمت کی ہے، جس میں افغان طلبہ اور ڈاکٹروں سے کہا گیا ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر اپنے ہوسٹلز خالی کریں۔ یہ فیصلہ اس وقت ہوا ہے جب ویزا کی توسیع میں رکاوٹ اور جبری deportations میں اضافہ افغان مہاجرین اور طلبہ کے لیے ایک شدید انسانی بحران پیدا کر رہا ہے۔


افغان طلبہ اور ڈاکٹروں کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت

بین الاقوامی افغان طلبہ تنظیم (IASA) نے لاہور میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ کے اچانک فیصلے کی مذمت میں ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق، تمام افغان طلبہ، ڈاکٹر اور شہری جو یونیورسٹی کے ہوسٹلز میں رہائش پذیر ہیں اور جنہوں نے اپنے ویزے کی تجدید نہیں کروائی، انہیں صرف 48 گھنٹے دیے گئے ہیں کہ وہ اپنے رہائش گاہیں خالی کریں؛ ورنہ انہیں سزا اور جبری نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ایجنسیوں کا ردعمل

اس اقدام کے ردعمل میں، اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) نے پاکستانی حکام کے ساتھ طلبہ کی بے دخلی کو روکنے کے لیے بات چیت شروع کر دی ہے۔ اسلام آباد میں ایجنسی کے ترجمان قایسر آفریدی نے کہا کہ ان افراد کے تعلیمی عمل جاری ہیں اور ان کی بے دخلی کی کوئی منطقی وجہ نہیں ہے۔ بین الاقوامی افغان طلبہ تنظیم نے بھی یونیسکو، یونیسیف اور بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ ان نوجوانوں کی تعلیم جاری رہ سکے۔

بوروکریٹک اور ویزا کی تجدید میں رکاوٹ

مہاجرین کی رپورٹس اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت نے نہ صرف حراست میں اضافہ کیا ہے بلکہ افغان شہریوں کے ویزوں کے اجراء اور تجدید کا عمل بھی مکمل طور پر روک دیا ہے۔ بہت سے مہاجرین، حالانکہ وہ اقوام متحدہ کے دفاتر میں رجسٹرڈ ہیں، پاکستانی پولیس کی جانب سے ان دستاویزات کو نامعتبر قرار دینے کے باعث حراست کی خوف میں جی رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی شہریوں میں نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔

دباؤ کے سیاسی اسباب اور انسانی نتائج

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ افغان مہاجرین اور طلبہ ٹالiban حکومت اور اسلام آباد کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات اور سیاسی کشیدگی کے شکار ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال کے آغاز سے اب تک 158,000 سے زائد افغان باشندے پاکستان واپس جا چکے ہیں، اور تخمینہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ تعداد سال کے اختتام تک دو ملین سے تجاوز کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واپسی کی لہر عوامی اقتصادی حالات، قحط اور بنیادی خدمات کی عدم دستیابی کے پیش نظر افغانستان کے بنیادی ڈھانچے پر مزید دباؤ ڈالے گی۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں