طالبان کے وزارت مہاجرین کی جانب سے اعلان کے بعد، پاکستان میں قانونی رہائش کے دستاویزات کی کمی کی وجہ سے قید 763 افغان پناہ گزین اپنے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ واپسی اسلام آباد اور کابل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہوئی ہے۔
طالبان کی وزارت مہاجرین نے اطلاع دی ہے کہ پچھلے ہفتے 763 افغان پناہ گزینوں کو پاکستان کی جیلوں سے آزاد کیا گیا۔ یہ افراد آہستہ آہستہ افغان سرزمین پر واپسی کے لیے ننگرہار کے طورخم بارڈر اور قندھار کے سپین بولڈک بارڈر کا استعمال کرتے ہوئے لوٹے۔
ننگرہار اور قندھار کے مقامی حکام نے رپورٹ کیا کہ ان میں سے 230 مہاجرین نے طورخم بارڈر سے اور 533 نے سپین بولڈک کے ذریعے واپسی اختیار کی۔ واپس آنے والوں میں خاندان اور ایسے افراد شامل ہیں جنہیں پاکستان میں اپنی بے دستاویزی کی حیثیت کی وجہ سے طویل مدت تک قید رکھا گیا تھا۔
افغانستان پہنچنے پر مہاجرین کا اندراج کیا گیا اور انہیں ضروری امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد انہیں ان کے اصل مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد انہیں افغانستان میں معمول کی زندگی میں دوبارہ ضم کرنے میں مدد دینا ہے۔
حالیہ مہینوں میں، خاص طور پر افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد، پاکستان نے بے دستاویز افغان مہاجرین کی گرفتاریوں اور اخراج میں اضافہ کیا ہے۔ اس رجحان کے نتیجے میں ہزاروں افغان گرفتار اور ملک بدر کیے گئے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ یہ تنظیمیں ایسے اقدامات کے انسانی بعض نتائج کے بارے میں خبردار کر چکی ہیں۔