طالبان کے وزارت مواصلات نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں فی الوقت 32 ملین سم کارڈز فعال ہیں، جن میں 17 ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ وزارت کا زور بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر ہے۔
حالیہ پریس کانفرنس میں، طالبان وزارت مواصلات اور معلوماتی ٹیکنالوجی کے ترجمان انayatullah Alkozai نے نئے اعداد و شمار پیش کیے، جن کے مطابق افغانستان میں تقریباً 32 ملین سم کارڈز فعال ہیں۔ ان میں سے تقریباً 17 ملین افراد انٹرنیٹ کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 10 ملین افراد اب چوتھی نسل کی موبائل سروسز (4G) تک رسائی حاصل کر چکے ہیں، جو کہ طالبان کے کنٹرول سنبھالنے سے پہلے صرف 2 ملین سے زیادہ تھی۔ یہ اضافہ افغانستان میں ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ خدمات کی فراہمی میں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
Alkozai نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی بہتر کوریج نے افغانستان کے ایک بڑے حصے کو انٹرنیٹ کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ توسیع ملک میں نئے اقتصادی اور سماجی مواقع فراہم کر سکتی ہے۔
طالبان کی وزارت مواصلات اور معلوماتی ٹیکنالوجی سائبر سیکیورٹی کو ترجیح دیتی ہے، جس کا مقصد آن لائن جگہ کو منظم کرنا اور غیر مجاز مواد کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا آن لائن خدمات، ڈیجیٹل مواصلات اور دور دراز تعلیم کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کی حقیقی انٹرنیٹ تک رسائی اور مختلف علاقوں میں فراہم کردہ خدمات کا معیار افغانستان میں ڈیجیٹل مواصلات کی حالت کا تجزیہ کرنے کے لیے اہم عوامل ہیں۔ ملک میں انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ڈیجیٹل خدمات کی ترقی کے لیے ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔