حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 28 ژوئن , 2021 خبر کا مختصر لنک :

ہزارہ تباہ کن طور پر نسل کشی کی زد میں

افغانستان کی اعلی امن کونسل کے سابق سربراہ محمد کریم خلیلی نے ہزارہ کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزارہ ہلاکت اور نسل کشی کے واقعات کا نشانہ بنائے جارہے ہیں اور جنایت کار عناصر اس عمل کے ذمہ دار ہیں۔


جناب خلیلی نے کابل میں کی گئی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگ نے ملک کی تمام قومیتوں کو نشانہ بنایا ہے اور سب ہی جنگ کی زد میں آئے ہیں، لیکن ہزارہ کی قومی شناخت کی بنا پر ان کو نسل کشی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اعلی امن کونسل کے سابق سربراہ نے مزید کہا: پچھلے بیس سالوں میں ہزارہ نسل کشی کی روشن مثالیں کئی بار رونما ہوئی ہیں۔

خلیلی نے یہ بھی تاکید کی کہ ہزارہ کی نسل کشی کا الزام کسی بھی نسلی یا قومی گروہ کے سر نہیں ہے، بلکہ اس سازش کے پیچھے مجرم گروہ ملوث ہیں۔

محمد کریم خلیلی نے حکومت سے اور بالخصوص صدر افغانستان، اشرف غنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہزارہ نسل کشی کے وجود کو سرکاری طور پر تسلیم کریں اور اس نسل کشی کی نئی لہر کی روک تھام میں حصہ لیں۔

انہوں نے مزید کہا: شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہزارہ پر ہونے والے ٹارگٹ حملوں کو روکنے کے لئے موثر کارروائی کرنا چاہئے، اور ان حملوں کے پیچھے ملوث مجرم گروہوں کی شناخت کرنا چاہئے۔

اعلی امن کونسل کے سابق سربراہ نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ہزارہ کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی، تو لوگ اس بات کا جائز حق رکھتے ہیں کہ وہ اپنا دفاع خود کریں۔

دریں اثنا، ہزارہ کی ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں اور مغربی کابل میں ہزارہ کو نشانہ بنائے جانے والے متعدد مہلک حملوں کے بعد، ٹویٹر پر “ہزارہ نسل کشی بند کرو” کے نام سے ایک ٹرنڈ شروع کیا گیا ہے۔ یوروپی یونین اور جرمنی نے بھی افغانستان میں ہزارہ کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں