طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے خوست میں شیخ زاید یونیورسٹی کے طلباء سے ملاقات کی اور افغانستان میں بین الاقوامی اعتماد کی تعمیر کے لیے حکومت کی کوششوں پر زور دیا، ساتھ ہی انہوں نے ملک کے مستقبل کی تشکیل میں یونیورسٹیوں کے اہم کردار کا ذکر کیا۔
شیخ زاید یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ حالیہ ملاقات میں سراج الدین حقانی نے افغانستان کی ترقی میں یونیورسٹیوں کی اہمیت پر بات کی اور کہا کہ حکومت بین الاقوامی سطح پر ملک میں اعتماد بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
حقانی نے وضاحت کی کہ افغانستان کی سیاسی اور سماجی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک یونیورسٹیوں اور ان کے طلباء کی سرگرمیوں پر ہے۔ انہوں نے افغان عوام کی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ “غیر محفوظ” نہیں ہیں اور اگر ان پر اعتماد کیا جائے تو مختلف شعبوں میں ترقی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
طالبان کے وزیر داخلہ نے مزید یہ کہا کہ افغان لوگ گفتگو اور مشاورت کے لیے مائل ہیں، اور ان کا اصرار ہے کہ طالبان عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں نہ کہ دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے۔ یہ تبصرے بین الاقوامی مطالبات کے درمیان سامنے آئے ہیں کہ طالبان انسانی حقوق کا احترام کریں اور خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیاں اٹھائیں۔
افغانستان کی آزادی کی 107ویں سالگرہ کی تقریب کے دوران، حقانی نے دوبارہ یہ بات کی کہ آزادی صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک تصور ہے جس کو حقیقت میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی ملک سلامتی کا احساس کرتا ہے اور خود کفیل بن جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ ذمہ داری، ماضی کی نسلوں کی کامیابیوں کو یاد کرتے ہوئے، آزادی کو برقرار رکھنے اور عوامی زندگی کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں شامل ہونی چاہئیں۔ اس تناظر میں، حقانی کے مؤقف طالبان کی بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔