قطر میں مقیم طالبان کے کچھ رہنماؤں اور عہدیداروں نے خفیہ طور پر اور پاکستانی حکام کی نظروں سے دور، دوحہ میں ہندوستانی سیکورٹی ایجنسی کے کچھ افراد کے ساتھ اور اسی طرح ایک اورخفیہ ملاقات میں روسی سفارت کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔
مقامی خبر رساں اداروں کے مطابق حال ہی میں طالبان کے کچھ رہنماؤں اور عہدیداروں نے، کہ جن میں قطر میں مقیم سابقہ مذاکراتی ٹیم کے رکن عباس ستانکزئی اور قطر میں مقیم اس گروپ کا سیاسی وفد بھی شامل ہیں، خفیہ طور پر اور پاکستانی حکام کی نظروں سے دور دوحہ میں ہندوستانی سیکورٹی ایجنسی کے کچھ افراد کے ساتھ اور اسی طرح ایک اورخفیہ ملاقات میں روسی سفارت کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔
بعض باخبر ذرائع نے طالبان قیادت کے نئے رکن کے قطر میں روسی سفارت کار کے ساتھ قریبی اور دیرینہ تعلقات کے ساتھ ساتھ، ہندوستانی انٹیلی جنس عناصر اور متحدہ عرب امارات کے مشتبہ افراد سے بھی ان کے ذاتی تعلقات کی خبر دی ہے۔
طالبان کے اس رکن کی خفیہ ملاقاتیں بظاہر پاکستان آرمی انٹیلی جنس آرگنائزیشن (آئی ایس آئی) جو کہ خاص طور پر اس گروپ کے رہنماؤں پر نظر رکھتی ہے اور ان کی نگرانی کرتی ہے، اس کے ایجنٹوں سے پوشیدہ نہیں ہیں اور وہ ان پر انتہائی مشکوک ہیں۔
اسی ذریعے نے مزید کہا کہ ان ملاقاتوں میں انہوں نے خاص طور پر اپنے لیے نقد رقم اور کریڈٹ وصول کیا ہے۔ ماضی میں اسی طرح کے واقعات میں طالبان کے نام نہاد اور بااثر رہنماؤں میں سے ہر ایک کا پاکستانی انٹیلی جنس سروس کی طرف سے تعین شدہ قواعد و ضوابط سے خارج دوسرے ممالک کے ساتھ رابطہ، ان کی ہلاکت اور قتل کا باعث بنا ہے۔
اس لیے یہ پیشن گوئی کی جاتی ہے کہ پاکستان کا ساتھ چھوڑنے کا ارادہ رکھنے والے دیگر طالبان کا بھی یہی حشر ہوگا۔