روس نے یہ دعوی کیا ہے کہ واشنگٹن کا ارادہ ہے کہ افغانستان سے انخلاء کے بعد امریکی افواج کو افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں تعینات کیا جائے۔
روس کی خارجہ انٹلیجنس سروس کے ڈائریکٹر، سیرگی ناریشکن، کا ماننا ہے کہ افغانستان چھوڑنے کے بعد امریکا اپنی افواج کو ہمسایہ ممالک میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
روسی خارجہ انٹلیجنس سروس (ایس وی آر) کے ڈائریکٹر کا اس بارے میں کہنا تھا: واشنگٹن اس کوشش میں ہے کہ اپنی افواج کو افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں تعینات کرے، اور روس یہ امید رکھتا ہے کہ اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم میں شامل امریکی اتحادی اس منصوبے میں اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں افغانستان میں موجود روسی نمائندے، ضمیر کابلوف، نے روسی تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی افواج اپنی دی ہوئی ڈیڈ لائن تک افغانستان نہیں چھوڑیں گی۔ ضمیر کابلوف نے کہا: روس میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ امریکی افواج کا مقررہ ڈیڈ لائن (یکم مئی) تک خروج نہ کرنے کے منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے یہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔ ہم نے بائیڈن کو خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ دوحہ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
کچھ دن قبل، صدر جو بائیڈن نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر یکم مئی تک امریکی افواج کا افغانستان سے انخلاء مشکل ہوگا۔
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے امریکی افواج کے خروج کے عمل کو ایک تدریجی عمل قرار دیا، اور کہا ” اس عمل میں موسم بھی تاثیرگذار ہو سکتا ہے”
اس سے قبل، امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ اعلان کیا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج کا خروج 11 ستمبر تک ہوگا۔