طالبان کے وزارت دفاع کا ایک ہیلی کاپٹر بدخشاں کے نُسائی ضلع میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ تاجکستان کے وزارت خارجہ نے فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور سرحدی علاقوں کو لاحق خطرات پر احتجاج درج کرایا ہے۔
طالبان کی وزارت دفاع نے اطلاع دی ہے کہ وزارت کے زیر ملکیت ایک ہیلی کاپٹر نُسائی ضلع میں تکنیکی مشکلات کے سبب گر کر تباہ ہوگیا۔ خوش قسمتی سے، اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، بعض دیگر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ایک بچے کی موت اور چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تاجکستان کی وزارت خارجہ نے بدخشاں کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب مسلح جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ایسے واقعات تاجکستان کی سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں، جس کی وجہ سے انہوں نے افغانستان کے لیے ایک احتجاجی نوٹ بھیجا ہے۔
طالبان کی وزارت دفاع نے ان دعووں کی تردید کی ہے کہ ہیلی کاپٹر Jumma Khan Fatah سے منسلک افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں حادثے کا شکار ہوا، اور کہا کہ اس واقعے کی بنیادی وجہ تکنیکی خرابی تھی۔ ہیلی کاپٹر زخمیوں کو لے کر اتر رہا تھا۔
بدخشاں میں سیکیورٹی کی صورت حال میں خرابی جاری ہے، جیسا کہ فیض آباد کے میئر حبیب الرحمن منصور گزشتہ روز ایک دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔ طالبان حکومت نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے اور دھماکے کو ایک مقناطیسی بارودی سرنگ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔