ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے مزاحمت کے راستے پر غیر متزلزل عزم کی تصدیق کی، اور امریکہ کی موجودہ حکمت عملی کو جاری تنازعات سے نکلنے کی کوشش قرار دیا۔ بین الاقوامی ذرائع، جن میں چین اور روس بھی شامل ہیں، کا تخمینہ ہے کہ حالیہ جھڑپوں میں امریکہ کو تقریباً 800 جانوں کا نقصان اور 2,800 سے زائد زخمیوں کا سامنا ہوا ہے۔
اس فوجی عہدیدار نے علاقے میں امریکی فوج کی موجودہ حالت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ آج واشنگٹن کے حکام کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ وہ کسی طرح جنگ سے باعزت طور پر نکل سکیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ باوجود دھمکیوں اور بیانات کے، امریکہ عمل میں مزاحمت کے محاذ کی صلاحیتوں کے سامنے ٹک نہیں سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ علاقے میں امریکی فوج کی مسلسل موجودگی صرف ان کے مالی اور انسانی نقصانات کو بڑھائے گی۔
سینئر فوجی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حقیقت کو مسخ کرنے کے لیے ان کی جانب سے ذہنی جنگ میں وسیع کوششیں کی گئی ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ امریکی اڈوں پر سخت خبریں سینسر کی جاتی ہیں۔ تاہم، میدان میں موجود ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن کی فوجی ساخت کو نمایاں نقصانات پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کی مختلف اڈوں میں پھیلی ہوئی موجودگی اور میڈیا پر پابندیوں نے خبروں کی واضح ترسیل میں رکاوٹ ڈالی ہے، لیکن انٹیلیجنس کے تخمینوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور فورسز میں انسانی نقصانات بہت زیادہ ہیں۔
اس تناظر میں، چین اور روس سے آنے والی انٹیلیجنس اور میڈیا ذرائع کی رپورٹس نے اس ناکامی کے مزید درست ابعاد کو ظاہر کیا ہے۔ اس معلومات کے مطابق، حالیہ جھڑپوں میں امریکی فوجی ہلاکتوں کی تعداد اب 792 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2,875 مزید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حیران کن اعداد و شمار وائٹ ہاؤس کی سرکاری بیان سے تضاد رکھتے ہیں، جو علاقے میں مقامی دفاعی فورسز کی طرف سے ہدف بنا کر کیے گئے حملوں کے سامنے امریکی فوج کی کمزوری کو واضح کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ان اعداد و شمار کا افشاء امریکہ میں جلد از جلد نکلنے کے لیے عوامی دباؤ میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔