حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 30 مارس , 2026 خبر کا مختصر لنک :

عید الفطر کے موقع پر طالبان کے رہنما کا پیغام: اتحاد اور اصلاحات کی ضرورت

هبت‌الله آخندزاده

طالبان کے رہنما نے عید الفطر کے پیغام میں اسلامی اصولوں کی بنیاد پر دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے افغانستان کے داخلی معاملات میں ممالک کی مداخلت سے پرہیز کرنے کی اپیل کی اور بدعنوانی کے خلاف مل کر لڑنے اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔


اسلامی بھائی چارے اور باہمی احترام پر مبنی خارجہ پالیسی

اسلامی امارت افغانستان کے رہنما ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید الفطر کے موقع پر حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے بنیادی اصول بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ کابل اسلامی دنیا کے ساتھ مذہبی بھائی چارے کی بنیاد پر مثبت تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہے جبکہ دوسرے ممالک کے ساتھ بھی باہمی احترام اور اسلامی اصولوں کی بنیاد پر مفید تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ رہنما نے سیاسی خودمختاری کی اہمیت پر زور دیا اور تمام قوموں سے افغان عوام کے عقائد اور اقدار کا احترام کرنے کی اپیل کی، تاکہ ملک کے داخلی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہو۔

بدعنوانی کے خلاف لڑائی اور مذہبی اداروں کی جوابدہی

رہنما کے عید پیغام کا ایک بڑا حصہ داخلی مسائل اور سماجی اصلاحات کے لیے وقف کیا گیا۔ ملا ہیبت اللہ نے وزارت بہار معروف و نہی از منکر کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تمام حکومتی اداروں اور عوام سے درخواست کی کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اس وزارت کے ساتھ مسلسل تعاون کریں۔ انہوں نے علماء کے کردار کو معاشرہ میں لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کا سبق ہے کہ وہ نوجوانوں کے عقائد کی اصلاح میں محنت کریں، بے ہودہ عمل سے روکیں اور معاشرے میں نیک اعمال کو فروغ دیں۔

قومی اتحاد پر زور اور نسلی تقدس کی نفی

اپنے پیغام میں اسلامی امارت کے رہنما نے مسلمانوں کی عزت اور وقار کو ان کے اتحاد اور یکجہتی پر منحصر قرار دیا۔ انہوں نے شہریوں سے مزید اتحاد کی روح کو فروغ دینے اور کسی بھی فرقہ، زبان یا نسلی تعصب سے دور رہنے کی اپیل کی۔ اس تناظر میں انہوں نے ملک کی سلامتی اور دفاعی فورسز کی مضبوط حمایت پر زور دیا، جو اسلامی نظام کے محافظ ہیں، اور کہا کہ حکام کی اطاعت اسلامی نظام کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ صرف اتحاد کی چھاؤں میں اور تنازعات سے دور رہنے سے قومی استحکام اور طاقت برقرار رہے گی۔

تعلیم کی اہمیت اور واپس آنے والوں کی مدد

اپنے پیغام کے اختتام پر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ملک میں تعلیمی اور تربیتی پروگراموں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ نوجوان نسل کی تعلیم کے لیے تعلیمی حلقے اور اصلاحی پروگراموں کی تعمیر میں زیادہ کوشش کریں۔ مزید برآں، پڑوسی ممالک سے واپس آتے افغان مہاجرین کی لہر کا حوالہ دیتے ہوئے اسلامی امارت کے رہنما نے مذہبی شہریوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے ہم وطنوں کا استقبال کریں اور ان کی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کریں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں