امریکی Special Forces کی حالیہ کارروائی کا مقصد جنوبی اصفہان میں ایک گرے ہوئے جنگی طیارے سے ایک پائلٹ کو بچانا تھا، مگر ایرانی مسلح افواج کے تیز اور فیصلہ کن ردعمل کی وجہ سے یہ ایک بڑی اور شرمندہ کن شکست میں تبدیل ہو گیا۔
اس وسیع تصادم میں، جس میں ایران کی فوجی اور شہری قوتیں شامل تھیں، واشنگٹن کی جانب سے بھیجی گئی تمام سازو سامان، جن میں دو HC-130 خصوصی آپریشنز کے طیارے، دو Black Hawk ہیلی کاپٹر اور دو جنگی ڈرون شامل تھے، کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ شاندار ناکامی، جس نے نقصانات کی شدت اور فوجی حکمت عملی میں حیرت کے عنصر کو اجاگر کیا، 1980 کے Operation Eagle Claw کی یاد دلاتی ہے جو تاباس کے صحرا میں پیش آئی تھی۔ یہ ایک بار پھر یہ بات واضح کر دیتی ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں کے مقابلے میں امریکہ کی عملی تیاریوں میں خامیاں اور انٹلی جنس کی ناکامیاں موجود ہیں۔
جبکہ مغربی میڈیا میں اس شکست کو تکنیکی خرابیوں یا پائلٹ کی چوٹوں کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، کسی بھی زندہ بچ جانے والوں کی بصری شہادت کی عدم موجودگی، حملہ آوروں کی ممکنہ ہلاکت کے امکانات کو بڑھاتی ہے۔ امریکہ کی فوجی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک پہلے بھی ویتنام، صومالیہ، اور شام میں ایسے ہی شدید نقصانات کا سامنا کر چکا ہے۔ جنوبی اصفہان میں حالیہ واقعہ واشنگٹن کی خصوصی کارروائیوں کی ایران کی سرزمین پر ناکامیوں کی ایک اور داستان ہے۔