حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 30 مارس , 2026 خبر کا مختصر لنک :

پاکستان اور طالبان کے درمیان سرحدی تنازعات: 20,000 بےگھر خاندانوں کے لیے ہنگامی امداد کا آغاز

دنیا کے غذائی پروگرام نے پاکستان اور طالبان کے درمیان سرحدی تنازعات کے باعث 20,000 سے زائد بےگھر خاندانوں کے لئے ہنگامی امدادی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 115,000 افراد بےگھر ہو چکے ہیں اور ان کشیدگیوں میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔


بےگھر ہونے والے افراد کے لئے امدادی کارروائیاں شروع

دنیا کے غذائی پروگرام (WFP) نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغان خاندانوں کے لئے خوراک کی تقسیم شروع کر رہا ہے، جنہیں حالیہ طالبان سرحدی افواج اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں کے باعث اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، یہ ضعف زدہ خاندان فورٹیفائیڈ بسکٹ اور تیار کھانے کے پیکجز حاصل کریں گے تاکہ ان کے فوری بھوک کے مسائل حل ہو سکیں۔ بین الاقوامی تنظیم نے زور دیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ان افراد کو بنیادی غذائی اشیاء اور نقد امداد سمیت اضافی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔

مشرقی علاقے میں وسیع پیمانے پر بےگھر ہونے اور شہری جانوں کا نقصان

ناروے کی پناہ گزین کونسل کی حالیہ رپورٹ میں اس بحران کی وسیع نوعیت کو اجاگر کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ 26 فروری سے 115,000 سے زائد افراد کو بڑھتی ہوئی لڑائی کے سبب اپنی بنیادی رہائش گاہیں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسی دوران، متحدہ قوموں نے انسانی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے، یہ تصدیق کرتے ہوئے کہ ان تنازعوں کے دوران کم از کم 75 شہری ہلاک ہوئے ہیں اور 193 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار سرحدی کشیدگیوں کے نتیجے میں مقامی رہائشیوں پر مرتب ہونے والے سنگین انسانی نقصان کی عکاسی کرتے ہیں۔

بچوں کی نازک حالت اور بنیادی خدمات میں خلل

انسانی حقوق کی تنظیم سیو دی چلڈرن نے بھی ایک پریشان کن رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ مشرقی افغانستان میں تقریباً 68,000 بچے اس تشدد کے نتیجے میں بےگھر ہو چکے ہیں۔ تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ حالیہ عدم تحفظ نے صحت، غذائیت اور تعلیم کی اہم سرگرمیوں میں خلل ڈالا ہے، جس کا اثر 134,000 سے زیادہ افراد پر پڑا ہے۔ اس کے باوجود، دنیا کے غذائی پروگرام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شدید سیکیورٹی خطرات کے باوجود، اس نے سرحدی علاقوں کے اہم شعبوں میں کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے تاکہ بڑے انسانی بحران سے بچا جا سکے۔

بین الاقوامی انتباہات اور سفارتی حل کی ضرورت

افغانستان میں دنیا کے غذائی پروگرام کے سربراہ جان ایئلیف نے جاری عدم استحکام کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے، اور کہا ہے کہ مزید کشیدگیاں ملینوں افغان شہریوں کو جنہیں پہلے ہی غربت کا سامنا ہے، مزید بھوک کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ اس سے قبل، اقوام متحدہ نے بیان دیا تھا کہ افغانستان میں نزدیکاً 20 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ اس پس منظر میں، یو این اے ایم اے کی عارضی سربراہ جیورجٹ گگنون نے فوری طور پر جھڑپوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تنازعات کو سفارتی چینلز کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ مزید معاشی اور انسانی نقصانات سے بچا جا سکے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں