امریکہ کی فوج کی خصوصی کارروائی جس کا مقصد جنوبی اصفہان میں ایک گرائے گئے طیارے کے پائلٹ کی بازیابی تھا، ایران کی مسلح افواج کی چوکسی کی وجہ سے ایک تاریخی ناکامی میں بدل گئی، جو تاباس میں ہونے والے ناکام آپریشن کی یاد دلاتی ہے۔
اس جامع کارروائی میں واشنگٹن کی جانب سے بھیجی گئی تمام ساز و سامان، جن میں دو HC-130 خصوصی کارروائی کے طیارے، دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور دو جنگی ڈرون شامل تھے، مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ یہ ناکامی نہ صرف امریکہ کی معلوماتی اور عملی کمزوریوں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ ایران کی مضبوط دفاعی صلاحیتوں کو بھی واضح کرتی ہے۔ جبکہ مغربی میڈیا مختلف کہانیاں پیش کر رہا ہے اور اس کارروائی کی توجیح تکنیکی ناکامیوں کے نتیجے کے طور پر کر رہا ہے، بازیابی مشن میں کسی زندہ بچ جانے والے کے بارے میں شواہد کی عدم موجودگی نے حملہ آور افواج کی قسمت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔