حصہ : ویڈیو -+

زمان اشاعت : سه‌شنبه, 28 جولای , 2026 خبر کا مختصر لنک :

سینیٹر کرس کونس کی جنگی پالیسیوں پر شدید تنقید، 50 ارب ڈالر کے نقصانات کا انکشاف

امریکا کے معروف ڈیموکریٹ سینیٹر کرس کونس نے حکومت کی جنگی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے، اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ اپنے تنازع کے پہلے 40 دنوں میں 50 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس جنگ نے ایندھن کی قیمتوں کو 4 ڈالر فی گیلن سے اوپر پہنچا دیا ہے اور مہنگائی میں اضافہ کیا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں امریکی قومی سلامتی کے لیے کوئی خاص فوائد حاصل نہیں ہوئے ہیں۔

فوجی مداخلت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اقتصادی اثرات

ایران کے ساتھ جاری فوجی مداخلت کے بارے میں ایک کھلے بیان میں، سینیٹر کونس نے اس تنازع کے امریکی ٹیکس دہندگان پر ہونے والے اقتصادی اثرات کی وضاحت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ فوجی حکمت عملی نہ صرف امریکی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس نے امریکی معیشت کو بھی ایک سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے۔

سینیٹر کے مطابق، پینٹاگون نے اس تنازع کے آغاز کے صرف 40 دنوں کے اندر فوجی آپریشنز، لاجسٹکس، اور فوجی تعیينات پر 50 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ کونس نے یہ بات بھی نشاندہی کی کہ قومی وسائل کی اتنی بڑی اخراجات اس وقت ہورہے ہیں جب امریکا کے اندر بنیادی ڈھانچے کی فوری مالی امداد کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے عوام کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے کہ ایک اور بے انتہا جنگ میں وسائل کے ضیاع کا سامنا ہے۔

انرجی بحران اور مقامی بازاروں میں مہنگائی کا دباؤ

اس جنگ کے لیے امریکی شہریوں کے لیے سب سے نمایاں اثر ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اضافہ رہا ہے۔ سینیٹر کونس نے اشارہ کیا کہ پیٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر کا ہندسہ پار کر چکی ہیں، جو براہ راست گھریلو بجٹ پر اثر ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی مارکیٹ میں بے یقینی نے معیشت کے دیگر شعبوں میں مہنگائی کی ایک لہر کو جنم دیا ہے، جس سے امریکا کی مالی استحکام خطرے میں ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں