حصہ : ویڈیو -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 12 آوریل , 2026 خبر کا مختصر لنک :

سینیٹر کرس کوونز کا جنگی پالیسیوں پر شدید تنقید: 50 بلین ڈالر کا نقصان اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں

کرس کوونز، ایک نامور ڈیموکریٹ سینیٹر، نے حکومت کی جنگی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ تنازع کے پہلے 40 دنوں میں ہی 50 بلین ڈالر سے زائد خرچ کر دیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس جنگ نے پٹرول کی قیمتوں کو 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کروا دیا ہے، جو کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا باعث بنی ہے، جبکہ اس نے امریکی قومی سلامتی کے لیے کوئی نمایاں فوائد فراہم نہیں کیے۔

تنازع کا اقتصادی اثر

سینیٹر کرس کوونز، جو امریکہ کی سینیٹ کے ایک بااثر رکن ہیں، نے ایران کے ساتھ جاری فوجی مصروفیت کے بارے میں ایک کھلا انتباہ جاری کیا، جس میں اس کے اقتصادی اثرات کو امریکی ٹیکس دہندگان پر واضح کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ فوجی حکمت عملی نہ صرف واشنگٹن کے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام ہے بلکہ اس سے امریکی معیشت بھی خطرے میں ہے۔ سینیٹر کے مطابق، پینٹاگون نے محض تنازع کے پہلے 40 دنوں میں فوجی کارروائیوں، لاجسٹکس اور علاقے میں فوجی تعیناتی پر 50 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ کوونز نے اشارہ دیا کہ اس طرح کا زبردست قومی وسائل کا خرچ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ میں داخلی بنیادی ڈھانچے کو فنڈنگ کی ضرورت ہے، اور عوامی رائے کو مشرق وسطیٰ میں ایک اور طویل جنگ پر وسائل کی بربادی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔

انرجی بحران اور گھریلو مارکیٹوں میں مہنگائی

اس جنگ کا امریکی شہریوں پر ایک فوری اثر یہ ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ سینیٹر کوونز نے بتایا کہ پٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہیں، جو خاندانوں کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انرجی مارکیٹ میں ہونے والی ہلچل نے دیگر اقتصادی شعبوں میں مہنگائی کی ایک لہر کو جنم دیا ہے، جو کہ امریکہ کی مالی استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں