طالبان کے ساتھ وابستہ ایک میڈیا ادارے نے حالیہ علاقائی پیشرفتوں اور رمضان جنگ کو اسلامی ممالک کی سفارتی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے ایک تاریخی موقع قرار دیا ہے۔ اس اشاعت نے عرب ممالک کی مغرب نواز پالیسیوں پر تنقید کی، اور کہا کہ علاقے میں سلامتی اور خوشحالی صرف امریکہ کی مکمل واپسی اور ایران کے ساتھ اسلامی ممالک کے اتحاد کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
میڈیا ادارے ال-مرصد نے عرب اور اسلامی ریاستوں کی سفارتی حکمت عملیوں پر تنقید کی۔ اس نے علاقے کی جاری کشیدگی کو اجاگر کرتے ہوئے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ مغربی رخ سے ہٹ کر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مل کر امریکہ اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کے خلاف متحد ہو جائیں۔
اس مضمون میں مزید کہا گیا کہ مغربی ایشیا میں استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ایک بنیادی شرط ہے: اسلامی ممالک میں خاص طور پر امریکہ کی فوجی اور سیاسی موجودگی کا مکمل خاتمہ۔ ال-مرصد نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی موجودگی علاقے میں دیرپا سلامتی اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
میڈیا ادارے نے حج کے زائرین کی قریب آمد کا ذکر کیا اور علاقے کے ممالک سے اپیل کی کہ وہ اسروحانی اور سیاسی موقع کو مغرب کے خلاف اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کریں۔ ال-مرصد نے زور دیا کہ اسلامی قومیں ایران کے ساتھ اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کریں تاکہ مغربی طاقتوں کی طرف سے دہائیوں سے بغیر قیمت کے چھینی گئی معاشی اور سیاسی فوائد کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔ اس اشاعت کے مطابق، موجودہ عالمی امور، خاص طور پر معیشت اور سیاست میں طاقت کے عناصر پر کنٹرول حاصل کرنا صرف اسلامی دنیا کی اتحاد اور بین الاقوامی دباؤ کے خلاف ڈٹ جانے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔