ازبکستان کے شماریاتی کمیشن نے رپورٹ کیا ہے کہ اس سال کے ابتدائی سات ماہ میں افغانستان کے ساتھ تجارتی حجم 1.2 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس کے نتیجے میں افغانستان ازبکستان کا پانچواں بڑا تجارتی پارٹنر بن گیا ہے۔
ازبکستان کے شماریاتی کمیشن کے مطابق، اس سال کے پہلے سات ماہ میں ازبکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت 1.2 بلین ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔ افغانستان اب ازبکستان کا پانچواں بڑا تجارتی پارٹنر ہے، جو اس کی علاقائی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
اس دوران ازبکستان کے چار بڑے تجارتی پارٹنرز میں چین 11.3 بلین ڈالر، روس 8.1 بلین ڈالر، قازقستان 3.3 بلین ڈالر، اور ترکی 1.6 بلین ڈالر کے ساتھ شامل ہیں۔
کابل اور تاشقند کے درمیان اقتصادی تعلقات پچھلے چند سالوں میں مثبت ترقی کی جانب بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ 2025 تک دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 1.7 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ یہ مقدار پچھلے سال کے مقابلے میں 55 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
2025 میں، دونوں ممالک ایک ترجیحی تجارتی معاہدے پر بھی دستخط کرنے والے ہیں، جس کا مقصد تجارت کو آسان بنانا اور ٹیرف کو کم کرنا ہے۔ یہ معاہدہ تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنے اور ایک دوسرے کے مارکیٹوں تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ازبکستان کی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے یہ وسطی ایشیا کے دل میں واقع ہے، جو افغانستان کے لیے ایک اہم تجارتی اور نقل و حمل کا راستہ بن چکا ہے۔ ازبکستان کی ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس تک رسائی نے تجارتی تعلقات کو قابل ذکر حد تک مضبوط کر دیا ہے۔