طالبان کے ترجمان زبی اللہ مجاہد نے پاکستان کے وزیر خارجہ، اسحاق ڈار کے اس بیان کو مسترد کردیا ہے جس میں انہوں نے افغان سرزمین سے سرگرم مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کا ذکر کیا تھا۔ مجاہد نے واضح کیا کہ کابل کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنے علاقے کا استعمال نہیں ہونے دے گا۔ یہ ردعمل پاکستانی عہدیدار کے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران دیئے گئے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔
مجاہد نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کبھی بھی اپنے علاقے کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، اور اس اصول کو طالبان کی حکمرانی کی پالیسیوں کا اہم حصہ قرار دیا۔
طالبان کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی ملک کو سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش ہے تو وہ افغان عہدیداروں سے رسمی مذاکرات کے ذریعے اپنے خدشات کا ذکر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان امور کا حل سفارتی تعلقات اور سرکاری چینلز کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
مجاہد کا یہ بیان اسحاق ڈار کے SCO اجلاس میں دیئے گئے بیان کے بعد آیا، جہاں انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی سیکیورٹی دھمکیاں پاکستان کے لئے ایک بڑی سیکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض مسلح گروہ افغانستان میں موجود ہیں اور طالبان حکومت کے زیر نگرانی فعال ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بعض افغان شہری پاکستان میں حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ طالبان انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے، اور دوہرایا ہے کہ وہ اپنے علاقے کو دوسروں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی سیکیورٹی مسائل اور مسلح گروہوں کی سرگرمیاں کابل اور اسلام آباد کے درمیان ایک بڑی جھگڑے کی وجہ بنی ہوئی ہیں۔