حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : شنبه, 5 سپتامبر , 2026 خبر کا مختصر لنک :

روس کی سیکیورٹی کونسل کا مغرب پر افغان خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام

نماز جمعہ خونین کابل (10)

روسی سیکیورٹی کونسل کے نائب الیکسی شفتسوف نے حالیہ اجلاس میں کہا ہے کہ مغربی ممالک افغانستان سے پیدا ہونے والے خطرات کو بڑھا چڑھا کر اس کی وسطی ایشیا میں اپنی فوجی موجودگی کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال دیگر علاقوں میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔


روس کی سیکیورٹی کونسل کے نائب: مغربی ممالک کی جانب سے افغان خطرات کا مبالغہ

ایک سرکاری اجلاس کے دوران، الیکسی شفتسوف نے اعلان کیا کہ مغربی اقوام افغانستان سے آنے والے سیکورٹی خطرات کو بہانہ بنا کر وسطی ایشیا میں اپنی فوجی انفراسٹرکچر کو وسعت دے رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ حربہ خطے میں زیادہ فوجی موجودگی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

وسطی ایشیا میں مغربی فوجی مقاصد

شفتسوف نے نوٹ کیا کہ افغانستان کے حوالے سے سیکیورٹی کی تشویشات مغرب کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں تاکہ یوریشیا میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مغربی ممالک کی اقتصادی مشکلات کے باوجود، وہ خطے میں عدم استحکام کے لیے اپنی کوششوں میں کوئی کمی نہیں آنے دیتے، کیونکہ قدرتی وسائل اور لاجسٹک راستوں کی اہمیت ہوتی ہے۔

یوریشیائی غیر مستحکم کرنے کی کوششیں: مغرب کا سیکیورٹی بیانیہ

اس روسی اہلکار نے شرکاء کو یاد دلایا کہ مغربی عدم استحکام کی کوششیں صرف وسطی ایشیا تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس میں افغانستان، یوکرین، جنوبی قفقاز، مغربی ایشیا، میانمار کے قریب اور تائیوان کے مضامین شامل ہیں۔ انہوں نے ان پالیسیوں کا حتمی مقصد وسائل اور سپلائی چینز پر کنٹرول کو بتایا۔

طالبان: افغان سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے

شفتسوف کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب طالبان کے اہلکاروں نے مستقل بنیادوں پر مغربی دعووں کی تردید کی ہے کہ افغانستان سے عدم استحکام پھیل رہا ہے، اور زور دیا ہے کہ افغان سرزمین کبھی بھی دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں