تنظیم نے بتایا ہے کہ 2025 تک تقریباً 3.1 ملین افغانی داخلی بے گھر کی صورت حال میں زندگی گزاریں گے۔ یہ خاندان غربت اور محفوظ پینے کے پانی کی عدم دستیابی کا شکار ہیں۔
تنظیم ریچ کی حالیہ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2025 تک افغانستان میں تقریباً 3.1 ملین لوگ داخلی بے گھر ہونے کا سامنا کر رہے ہوں گے۔ رپورٹ میں اس صورت حال کی وجوہات میں اقتصادی دباؤ، خوراک کی کمی اور قدرتی آفات کو شامل کیا گیا ہے۔
بنگلان اور پکتیکا جیسے مختلف صوبوں میں بے گھر خاندان اہم چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، جیسے بنیادی خدمات تک رسائی کی کمی اور مالی مشکلات۔ بنگلان کے ایک کنبے کے سربراہ منیر نے کہا، “ہماری صورت حال بہت مشکل ہے۔ حالیہ سیلاب نے کئی گھروں کو نقصان پہنچایا ہے، اور بچوں میں معدے کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بعض مستحق خاندان اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکے ہیں، لیکن کئی خاندان مالی مشکلات کی وجہ سے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
پکتیکا کے برمل ضلع کے ایک اور بے گھر فرد احمداللہ نے بیان کیا کہ بہت سے مقامی افراد طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان تنازعات کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ “ہمارے لوگ کئی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ کچھ جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو گئے ہیں اور خیموں میں رہ رہے ہیں۔ حکومت کو ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس صورت حال سے نکل سکیں،” انہوں نے کہا۔ یہ خاندان مالی مشکلات کی وجہ سے اپنے اصل علاقوں میں واپس جانے سے قاصر ہیں اور سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ریچ نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ 2021 سے تنازعات میں کمی کے بعد، اقتصادی دباؤ اور خوراک کی عدم تحفظ داخلی بے گھری کے اہم عوامل بن گئے ہیں۔ تنظیم نے یہ بھی نوٹ کیا کہ شدید بارش، سیلاب اور زلزلے کی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ جیسے جیسے درجہ حرارت کم ہوتا ہے، خیموں میں رہنے والے خاندانوں کے لیے حالات مزید مشکل ہو جائیں گے۔ رپورٹس کے مطابق، زیادہ تر بے گھری ایک ہی صوبے میں ہوتی ہے، کیونکہ افراد اپنے علاقوں سے کم نقل مکانی کرتے ہیں، جس کی وجہ سماجی تعلقات ہیں۔