
پاکستان میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت نے ماضی میں امریکہ کو فوجی آپریشنز کے لیے اپنی سرزمین اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے اسلام آباد کی افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے حوالے سے پالیسیوں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے کسی مخصوص وقت پر افغانستان میں امریکی افواج کے فوجی آپریشنز میں سہولت فراہم کی۔ انہوں نے اس عمل کو افغانستان کی استحصال کی ایک صورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران اسلام آباد نے امریکی طیاروں اور فوجیوں کے لیے کوئی رکاوٹیں نہیں کھڑی کیں۔ تاہم، انہوں نے اس فیصلے کے لیے وقت یازمین کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما نے زور دیا کہ اسلام آباد کو اپنے ہمسایہ ممالک، خاص طور پر افغانستان، کے بارے میں اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ مستدام سیکیورٹی حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تعلقات میں ایک نئے نقطہ نظر سے کشیدگی کم کرنے اور علاقے میں استحکام بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں، فضل الرحمان نے پاکستان کی بعض اندرونی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے مذہبی مدارس کے انتظام اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی حراست کو اہم مسائل کے طور پر پیش کیا جو شدید تنقید کا شکار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رہنما نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس وقت کے دور میں یا افغانستان میں کونسی امریکی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔ ان کی یہ باتیں اس وقت کی عکاسی کرتی ہیں جب پاکستان کا افغان جنگ میں کردار اور امریکہ کے ساتھ اس کا فوجی تعاون ایک مسلسل متنازعہ موضوع رہا ہے، خصوصاً پچھلے دو عشروں کے دوران ہونے والی ترقیات میں۔