حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : جمعه, 14 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں: ایک سنگین انسانی بحران

افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے پانچ سال بعد، خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم اور روزگار پر شدید پابندیوں کا سامنا ہے، جو ان کی زندگیوں اور مستقبل پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔


لڑکیوں کے لیے تعلیمی محرومی کے پانچ سال اور افغانستان میں سماجی چیلنجز

15 اگست 2021 کو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے کام کرنے کی آزادی میں سختی سے کمی کی گئی ہے۔ ان پابندیوں نے لڑکیوں اور خواتین کے لیے بہت سی تعلیمی اور ملازمت کے مواقع کو ختم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر کے خاندانوں کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

2.2 ملین افغان لڑکیاں تعلیم سے محروم

UNESCO کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگست 2025 میں تقریباً 2.2 ملین لڑکیاں افغانستان میں ابتدائی تعلیم کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے لڑکیوں اور خواتین کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

خواتین پر ملازمت کی پابندیوں کا اثر

خواتین کے حقوق کی نظر انداز کرنا اور خاص طور پر گھر کی خواتین سربراہوں کے لیے کام کی پابندیاں ان کی زندگیوں پر شدید اثر ڈال رہی ہیں۔ بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے 83 فیصد خواتین کی قیادت کرنے والے خاندانوں میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔

خواتین کے لیے ایک غیر یقینی مستقبل: افغانستان میں سماجی اور اقتصادی بحران

تعلیمی اور روزگار کی پابندیاں صرف خواتین پر اثر انداز نہیں ہو رہی ہیں بلکہ افغانستان کے سماجی منظر نامے کے لیے بھی منفی نتائج پیدا کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال بین الاقوامی تنہائی اور سماجی انحطاط کا باعث بن سکتی ہے۔

طالبان کے تحت خواتین کے حقوق اور انسانی بحرانوں پر عالمی ردعمل

ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے بار بار خواتین کی تعلیم اور کام پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ اس موجودہ صورت حال کے جاری رہنے سے خواتین کی زندگیوں اور افغانستان کی ترقی کی رہی سہی رفتار پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں