حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 20 جولای , 2026 خبر کا مختصر لنک :

پاکستانی-افغان عبوری تجارت میں بے مثال کمی، ایران پر انحصار بڑھنے لگا

نئی تجزیاتی رپورٹس کے مطابق، کابل اور اسلام آباد کے درمیان عبوری تجارت میں دوہزار اکیس کے بعد سے ننانوے فیصد کی بے مثال کمی آئی ہے۔ اس نظامی تبدیلی نے افغانستان کو ایرانی بندرگاہوں پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔


عبوری تجارت کی شدید کمی

سرحدی تجارت کے ڈیٹا کی حالیہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان عبوری تبادلے دوہزار اکیس کی سیاسی ہلچل کے بعد سے ڈرامائی اور بے مثال تنزلی کا شکار ہوئے ہیں۔ اس تجارت کی مالی قیمت تقریباً ننانوے فیصد کے تناسب سے گر گئی ہے۔ معروف علاقائی میڈیا جیسے کہ ڈان نیوز کے مطابق، پاکستان کے ذریعے گزرنے والے کنٹینرز کی تعداد میں کافی کمی ہوئی ہے، اور اس تجارت کی مجموعی قیمت پچھلے مالی سال میں پانچ ارب ڈالر سے گر کر صرف تین سو ستاسی ملین ڈالر رہ گئی ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پچھلے سال سرحدی راستوں کی بندش نے اس منفی رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے، لیکن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی جڑ کابل میں عبوری حکومت کی حکمت عملی میں ہے۔ اپنے اقتدار کے ابتدائی ایام سے ہی کابل کی انتظامیہ نے پاکستانی بندر گاہوں پر انحصار کو کم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی، جس کے تحت انہوں نے ایران کے ذریعے متبادل راستے تیار کرنے اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے پر توجہ دی۔

ایران کا افغانستان میں بے مثال اقتصادی اثر و رسوخ

ڈورانڈ لائن پر تجارت میں نمایاں کمی کے پیش نظر، عالمی بینک کی اقتصادی مانیٹرنگ رپورٹ تصدیق کرتی ہے کہ افغانستان کی تجارتی نظام بتدریج ایران کی شاہراہوں اور نقل و حمل کی بندرگاہوں پر انحصار کر رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں درآمدات پندرہ فیصد بڑھ کر تیرہ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جس میں ایران افغانستان کی ضروری اشیاء کا بہتر سویب فیصد فراہم کر رہا ہے، اور یہ اس کا سب سے بڑا ماخذ بن چکا ہے۔

مجموعی طور پر، ایران کے ساتھ براہ راست سرحدیں اور عبوری راستے افغان مارکیٹ میں تقریباً نصف لاجسٹک بوجھ کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، برآمدات اور ریورس ٹرانزٹ کی صورتحال، جو پہلے داخلی مصنوعات کو خاص طور پر بھارت میں فروخت کرنے کے لیے مواقع فراہم کرتی تھی، شدید متاثر ہوئی ہے۔ مالی تجزیے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس تجارتی سطح کی قیمت کروڑوں ڈالر سے کم ہو کر موجودہ مالی سال میں بہت کم ہو گئی ہے، جو مقامی تاجروں پر بھاری ضرب ہے۔

ٹرانزٹ راستوں کی تبدیلی کے بھاری اثرات: روزگار اور مہنگائی

عالمی بینک کے ماہرین انتباہ کرتے ہیں کہ جبکہ پاکستانی بندرگاہوں سے دوری نے اسلام آباد کے سیاسی دباؤ کو کابل پر کمزور کیا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں کمزور معیشت پر متعدد نقصانات اور اضافی اخراجات بھی عائد ہوئے ہیں۔ طویل فاصلے، لاجسٹک اور نقل و حمل کے متبادل راستوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے زرعی مصنوعات اور کوئلہ کی برآمد کے مواقع کو کمزور کیا ہے جبکہ گھریلو مارکیٹ میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس طرح، علاقائی تجارتی جغرافیہ میں یہ بڑی تبدیلی معیشت کے کمزور طبقوں کی زندگیوں پر منفی اثر انداز ہو رہی ہے۔ بھاری نقل و حمل کے اخراجات صارفین تک منتقل ہونے کی وجہ سے مہنگائی کے دباؤ مختلف شہروں میں بڑھ گئے ہیں۔ مزید یہ کہ مشرقی اور جنوبی سرحدوں پر جاری رکود ہزاروں ٹرک ڈرائیوروں، لوڈنگ ورکرز، کسٹمز بروکرز، اور سرحدی علاقے کے سرگرم کارکنوں کی روزگار کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جس کے پیش نظر بےروزگاری اور مکمل غربت کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں