حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 27 جولای , 2026 خبر کا مختصر لنک :

افغانستان کے منجمد اثاثوں سے سوئٹزرلینڈ میں 700 ملین ڈالر منافع

افغانستان ٹرسٹ فنڈ کے رکن انور الحق Ahadi نے اعلان کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں افغانستان کے منجمد اثاثوں نے 700 ملین ڈالر منافع حاصل کیا ہے، جس سے ان کی کل قیمت 4.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے مزید 3.5 بلین ڈالر کی رہائی کے لیے امریکی عدالتوں میں قانونی کامیابیوں کی بھی اطلاع دی...


افغانستان کے کرنسی ذخائر کی سوئٹزرلینڈ میں بڑھوتری

ڈاکٹر انور الحق Ahadi، افغانستان کے سابق وزیر خزانہ اور افغانستان ٹرسٹ فنڈ کے بورڈ کے رکن، نے افغان سائنسدانوں اور ماہرین کے ایک آن لائن اجلاس کے دوران بیان دیا کہ سوئٹزرلینڈ میں جمع کیے گئے فنڈز نے اس مدت کے دوران 700 ملین ڈالر کا منافع حاصل کیا ہے۔ اس اضافی منافع کے ساتھ، ان اثاثوں کی کل قیمت اب 4.2 بلین ڈالر ہے۔

امریکہ کی عدالتوں میں باقی 3.5 بلین ڈالر کے لیے کارروائیاں

Ahadi نے افغانستان کے کرنسی ذخائر کے باقی 3.5 بلین ڈالر کے بارے میں بات کی جو امریکہ کی جانب سے منجمد کر دیے گئے ہیں، نوٹ کرتے ہوئے کہ اب تک دو عدالتوں نے افغان عوام کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تیسری اور آخری عدالت بھی ان اثاثوں کی رہائی کے حق میں فیصلہ دے گی، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ افغانستان کی قومی سرمایہ کاری کو محفوظ رکھا جائے۔

اثاثوں کی حفاظت اور مرکزی بینک میں واپسی کی شرائط

سابق اقتصادی اہلکار نے زور دیا کہ ان اثاثوں کی منتقلی اور منجمد ہونے کے بعد سے نہ تو اصل رقم میں سے کوئی نکاسی ہوئی ہے اور نہ ہی منافع میں سے کوئی خرچ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مقصد مالیاتی بنیاد کی حفاظت کرنا اور ملک کی اقتصادی استحکام برقرار رکھنا ہے۔ جب سیاسی اور قانونی صورتحال مستحکم ہو جائے گی تو یہ فنڈز براہ راست د افغانستان بینک کو منتقل کر دیے جائیں گے۔

ملک کی اقتصادی منظر نامے پر گفتگو

یہ بیان ‘افغانستان کی اقتصادی اور سیاسی صورتحال: حقائق اور مستقبل کی توقعات’ کے عنوان سے ہونے والے ایک آن لائن سیشن کے دوران دیا گیا۔ اس اجلاس میں کئی تجزیہ کاروں اور ماہرین نے مالیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملیوں کا جائزہ لینے اور ملک کی اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر گفتگو کی۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں