طالبان کے ہاتھوں میں اب افغانستان کے ایک کھرب ڈالر (1 ٹریلین ڈالر) کے خزانے کی چابی ہے؛ اتنی رقم ساری دنیا کو قابل تجدید توانائی پر منتقل کر سکتی ہے۔
شکست کے ۲۰ سال، اور کابل واپس آنے کے بعد، طالبان مالی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ افغانستان کے بڑے عطیہ دہندگان نے ملک کی امداد بند کر دی ہے۔
لامتناہی جنگوں اور کمزور انفراسٹرکچر نے افغانستان کو قیمتی معدنیات کی کان کنی سے روک دیا ہے، جو افغانستان کے لیے بہت معاشی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
خبر کے مطابق یہ قیمتی کانیں جن میں لوہا، تانبا، سونا، کوئلہ، لتیم اور قیمتی پتھروں کی بڑی معدنیات شامل ہیں؛ یہ معدنیات منفرد ہیں، اور اس غریب ملک کو دنیا کے معروف معدنی مراکز میں تبدیل کرنے کے لئے کافی ہیں۔
افغانستان میں موجود ان معدنیات کی موجودہ قیمتیں مندرجہ ذیل ہیں: تانبا: ۲۷۴ ارب ڈالر، لوہا: ۴۲۰ ارب ڈالر، مولیبڈینم: ۲۳ عشاریہ ۹ ارب ڈالر، سونا: ۲۵ عشاریہ ۸ ارب ڈالر، کوبالٹ: ۵۰ عشاریہ ۸ ارب ڈالر، اور نیوبیم: ۸۱ عشاریہ ۲ ارب ڈالر۔