ورلڈ بینک کے عہدیداروں کی افغانستانی عہدیداروں سے ملاقات کے بعد انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان کو فراہم کی جانے والی امداد کو جاری رکھا جائے۔
عالمی بینک کے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ افغانستان کے صدر اور ان کے وزیر اقتصادیات سے کی جانے والی ۳ روزہ گفتگو میں جنیوا اجلاس کے مالی معاہدوں کے تحت یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو کے لئے مالی امداد جاری رکھیں گے۔
عالمی بینک عہدیداروں نے مزید کہا کہ افغانستانی سرکاری حکام سے گفتگو میں انہوں نے اصلاحات کے عمل کو سرعت دینے، نجی شعبہ جات کو مضبوط بنانے، اور عوامی خدمات کی فراہمی جاری رکھنے پر زور دیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے مد نظر، افغانستانی حکومت کو نجی شعبے کے لئے بہتر مواقع فراہم کرنے ہوں گے اور عالمی برادری کی مدد سے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ گذشتہ برسوں میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو حفظ کیا جائے۔
عالمی بینک کے نائب ڈائریکٹر برای جنوبی ایشیاء، ہاروگ شیفر نے کہا: میں نے افغانستان کے عالمی شراکت داروں سے افغانستان کے لئے اپنی امداد جاری رکھنے کے لئے بات کی ہے تاکہ ہم افغانستان میں گذشتہ دو دہائیوں میں حاصل کی گئی کامیابیوں کی حفاظت کریں۔ ہم نے کورونا وائرس سے مقابلے کے لئے افغانستانی حکومت کی حمایت کی بات بھی کی۔
ورلڈ بینک کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں امداد فراہم کرنے والے ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان تعمیر نو فنڈ میں اگلے چار سالوں تک مدد جاری رکھنے کا منصوبہ پیش کریں۔
دریں اثنا، اس موجودہ صورتحال میں معاشی کارکنان کا ماننا ہے کہ عالمی بینک کے عہدیداروں اور افغانستانی حکام کے مابین ہونے والے مذاکرات ملکی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے بہت اہم ہیں، اور کہ عالمی امداد جاری رکھنے کے لئے افغانستانی حکومت کو سب کا اعتماد جیتنا ہوگا۔
ورلڈ بینک نے اس بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا، سیاسی اور سلامتی کی صورتحال کا ابہام، اور بین الاقوامی امداد میں ممکنہ کمی کی وجہ سے افغانستان کی معاشی نمو کی سطح سال ۲۰۲۱ میں ایک فیصد ہوگی جبکہ سال ۲۰۲۲ میں تقریبا تین فیصد تک پہنچ جائے گی۔